چاول ابالنے کے بعد ان کا پانی ہر گز نہ پھینکئیے بلکہ اس کام کےلئے استعمال کریں تو آپ ہر ماہ ہزاروں روپے بچا سکتے ہیں

صدیوں سے چاول کا پانی خوبصورتی بڑھانے میں بہت مفید سمجھا جاتا ہے۔ یہ قدرتی ٹانک آپ کی جلد کو نرم و ملائم بناتا ہے اور یہ بالوں کے لئے کنڈیشنر کا کردار بھی ادا کرتا ہے۔اس کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ اس ٹانک کو آپ خود گھر میں بھی تیار کرسکتے ہیں۔چاول کے پانی میں بہت زیادہ مقدار میں وٹامنز اور منرلز موجود ہوتے ہیں۔

یہ وٹامنز اور منرلز آپ کی جلد کے کو خوبصورت بنانے میں بہت مددگار ثابت ہوتے ہیں۔چاول کا پانی بنانے کے لئے آپ کو آدھا کپ چاول لینے ہیں اور ان کو اچھی طرح دھو لینا ہے پھر چاول والے کپ میں پانی ڈالیں ۔

اس طرح آپ کے کپ میں آدھاپانی ہوگا اور آدھے چاول ہوں گے۔کچھ دیر کے لئے ان چاولوں کو بھیگو کر رکھ دیں۔ چاول اس وقت تک بھیگا رہنے دیں جب تک کے پانی کا رنگ سفید نہ ہوجائے۔جب پانی بالکل اچھی طرح سفید ہوجائے تو سمجھ جائیں آپ کا فیشل ٹونر تیار ہے۔

آپ اس پانی کو کسی صاف بوتل میں نکال کر فریج میں رکھ دیں اور اس ٹانک کو آپ 4 سے 5 دن تک استعمال کرسکتے ہیں۔آپ اس ٹانک کو چاول پکاتے وقت بھی تیار کرسکتے ہیں۔ آپ چاول پکانے کے لئے جتنا پانی استعمال کرتے ہیں، اس سے تھوڑا زیادہ پانی چاول پکنے کے لئے ڈالیں۔ جب آپ کے چاول پک جائیں تو اس میں سے پانی نکال لیں اور اس پانی کو آپ ٹانک کے طور پر اسکن اور بالوں کے لئے استعمال کرسکتے ہیں۔

یہ پانی آپ کے چہرے کے پورزکو بند کرتا ہے اور آپ کے چہرے کی چمک کو بڑھاتا ہے۔ سب سے پہلے آپ کو اپنے چہرے کو دھو کر صاف کرنا ہے ، اس کے بعد روئی کو اس پانی میں اچھی طریقے سے بھیگو کر اپنے چہرے پر لگاناہے۔آپ اگراسے ماسک کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں

تو ایک سوتی کپڑے کا ٹکڑالیں اسے چاول کے پانی میں بھیگو لیں پھر اسے فیس پر رکھ لیں اور 1 منٹ بعد اپنے چہرے پر سے ہٹالیں۔ اس طرح آپ چاول کے پانی کو فیس ماسک کی طرح استعمال کرسکتے ہیں۔چاول کا پانی بالوں کا ایک بہت زبردست کنڈیشنر کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے

’مجھے 2 سال تک ان 10 مردوں نے مسلسل۔۔۔‘ 16 سالہ لڑکی نے پولیس کو ایسی شرمناک ترین بات کہہ دی کہ پاکستانی پوری دنیا کے سامنے شرم سے پانی پانی ہوگئے

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک)بدقماش لوگ ملک میں ہوں تو لوگوں کا جینا حرام کیے رکھتے ہیں اور بیرون ملک چلے جائیں تو ملک کے نام کو بٹہ لگانے سے باز نہیں آتے۔ ایسے ہی پاکستانیوں کے ایک گروہ نے برطانیہ میں ایک انسانیت سوز کام کر ڈالا ہے کہ سن کر ہر پاکستانی کا سر شرم سے جھک جائے گا۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق 10پاکستانی مردوں کا یہ گروہ کئی سال تک کم عمر لڑکیوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بناتا رہا۔ ان تمام لڑکیوں کی عمریں 12سے 18سال کے درمیان تھیں۔ ان میں سے ایک 16سالہ لڑکی کو انہوں نے اس وقت اپنے چنگل میں پھنسایا جب وہ 14سال کی تھی، انہوں نے اسے منشیات پر لگایا اور دو سال تک اجتماعی زیادتی کا نشانہ بناتے رہے۔

ان بدطینت افراد کے خلاف بریڈفورڈ کراﺅن کورٹ میں مقدمہ زیرسماعت ہے۔ گزشتہ سماعت میں عدالت کو بتایا گیا کہ ملزمان لڑکیوں کو مختلف لالچ دے کر اپنے ساتھ لے جاتے اور منشیات دے کر جنسی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالتے، بعض لڑکیاں منشیات کی عادی ہوکر اور بعض ان کی دھمکیوں کے خوف سے بار بار ان کے پاس جانے پر مجبور ہو جاتیں اور یہ ان کے ساتھ کھلواڑ کرتے رہتے تھے۔مذکورہ 16سالہ لڑکی بھی کئی بار گھر سے بھاگ کر ان ملزمان کے پاس گئی۔ ان ملزمان میں 37سالہ بشارت خلیق، 31سالہ ذیشان علی، 36سالہ یاسر مجید، 35سالہ پرویز احمد، 31سالہ اظہار حسین، 54سالہ سعید اختر ، 42سالہ نوید اختر،30سالہ محمد عثمان و دیگر شامل تھے۔ دو گورے بھی اس گینگ کا حصہ تھے۔ پراسیکیوٹرز نے عدالت کو بتایا کہ یہ گینگ لڑکیوں کو منشیات پر لگانے اور اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد ان سے جسم فروشی کا دھندہ بھی کرواتا تھا۔ رپورٹ کے مطابق تمام ملزمان نے اپنے خلاف عائد الزامات مسترد کر دیئے ہیں۔

ساتویں جماعت کا بچہ گرفتار، اس نے ہمسایوں کی لڑکی کے ساتھ کیا کیا تھا؟ جان کر ہی ہر شخص کانوں کو ہاتھ لگانے پر مجبور ہوجائے

نوئڈا(نیوز ڈیسک) بھارتی معاشرے میں جنسی جرائم کا جن ایسا بے قابو ہوا ہے کہ اب چھوٹی عمر کے بچے بھی جنسی مجرم بننے لگے ہیں۔ نوئڈا شہر میں پیش آنے والا لرزہ خیز واقعہ ایک ایسی ہی عبرتناک مثال ہے۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق پیر کے روز سیکٹر 73 کے علاقے میں ساتویں جماعت کے لڑکے نے اپنے ہمسائے کی چار سالہ بیٹی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔

واقعے کے وقت لڑکے کے والدین محنت مزدوری کے لیے گھر سے باہر تھے جبکہ کمسن بچی بھی گھر میں اکیلی تھی۔ اس کے والدین اسے بڑی بہن کے ساتھ چھوڑ کر کام پر گئے ہوئے تھے۔ جب کچھ وقت کے لئے بڑی بہن گھر سے باہر گئی تو لڑکے نے کمسن بچی کو اکیلا پا کر ٹافی کا لالچ دے کر اپنے گھر بلا لیا اور اسے جنسی درندگی کا نشانہ بنا ڈالا۔ جب بچی اپنے گھر واپس گئی تو درد کے باعث رو رہی تھی۔ اس کی والدہ گھر واپس آئی تو اس نے سارا ماجرا اس کے سامنے بیان کر دیا۔ والدہ کی شکایت پر پولیس نے لڑکے کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی تو اس نے سچ اگل دیا۔

ملزم کو بچوں کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں سے اسے ریمانڈ ہوم بھیج دیا گیا ہے۔ طبی معائنے میں بھی بچی سے زیادتی ثابت ہو چکی ہے اور ملزم لڑکے خلاف بھارتی قانون کی دفعہ 377 کے تحت مقدمہ درج کر کے کاروائی کی جا رہی ہے۔

سری دیوی کی لاش کیساتھ ان کے رشتہ داروں نے وہ کام کر دیا جو آپ نے زندگی میں کبھی نہ دیکھا ہو گا، ہر کسی کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں

ممبئی (ڈیلی پاکستان آن لائن) بالی ووڈ کی لیجنڈ اداکارہ سری دیوی کی آخری رسومات جاری ہیں اور بالی انڈسٹری سمیت مختلف مکتبہ فکر کے افراد شرکت کیلئے پہنچ رہے ہیں۔

سری دیوی کی لاش تین سفید کپڑوں میں لپیٹ کر تابوت میں رکھی گئی ہے اور بالی ووڈ اداکار اور اداکارائیں ان کا آخری دیدار کر رہے ہیں جبکہ حیران کن طور پر ان کی لاش کیساتھ رشتہ داروں نے وہ کام بھی کر دیا ہے جو آپ نے زندگی میں کبھی نہ دیکھا ہو گا۔

ذرائع کے مطابق سری دیوی کے رشتہ داروں نے ان کی لاش کو میک اپ بھی کیا ہے اور بناﺅ سنگھار بھی کیا گیا ہے۔ رشتہ داروں کی جانب سے ایسا کرنے کی وجہ تو سامنے نہیں آ سکی البتہ بالی ووڈ میں بھی اس سے قبل ایسی کوئی مثال نہیں ملتی۔

ہٹلر نے خواتین نوکری پر رکھی ہوئی تھیں جن کا کام صرف بچے پیدا کرنا تھا

نازی جرمنی کا ایڈولف ہٹلر دنیا کے ناگزیر کرداروں میں سے ایک ہے جس کے تذکرے کے بغیر دنیا کی تاریخ نامکمل رہے گی۔ اب تک اس کے کئی آمرانہ کارنامے دنیا کو ورطہ¿ حیرت میں ڈال چکے ہیں لیکن اب ان کے متعلق ایک ایسا انکشاف منظرعام پر آ گیا ہے کہ آپ باقی سب بھول جائیں گے۔ ویب سائٹviraltrendzz.com کی رپورٹ کے مطابق ایڈولف ہٹلر نے سینکڑوں ایسی خواتین کو نوکری پر رکھا ہوا تھا

جن کا کام صرف بچے پیدا کرنا تھا، لیکن انہیں یہ بچے کچھ مخصوص مردوں سے ملاپ کرکے پیدا کرنے ہوتے تھے۔ اس نوکری کے لیے ان خواتین کو منتخب کیا جاتا تھا جو نسلی طور پر خالص جرمن ہوتی تھیں۔ انہیں بھرتی کرنے کے بعد ایس ایس آفیسرز کے ساتھ سونے اور بچے پیدا کرنے کو کہا جاتا تھا۔ اس کا مقصد خاص آرین نسل کے بچے پیدا کرنا تھا جن کی آنکھیں نیلی اور بال سنہری ہوتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق خالص آرین نسل کے بچے پیداکرنے کی ہٹلر کی مہم 1930ءکی دہائی میں شروع ہوئی، جس میں خاص طور پر جرمن اشرافیہ پر اعتبار کیا جاتا تھا اور انہیں خالص النسل سمجھا جاتا تھا۔ اس مہم کو Lebensbornکا نام دیا گیا تھا۔ اس مہم کا آئیڈیا سب سے پہلے ایس ایس آرمی (جرمن فوج کا سب سے جارحانہ یونٹ، جس میں بظاہر خالص جرمنوں کو بھرتی کیا جاتا تھا)کے سربراہ ہینرک ہیملر (Heinrich Himmler)کے ذہن میں آیا تھا جس پرہٹلر نے عملدرآمد کروایا۔

ہینرک نے ایک موقع پر کہا تھا کہ ”اگر ہم خالص جرمن نسل کے 20کروڑ لوگ پیدا کرنے میں کامیاب ہو گئے تو پوری دنیا پر ہماری حکومت ہو گی۔“ رپورٹ کے مطابق ہلڈیگارڈ تروتز (Hildegard Trutz)نامی سکول گریجوایٹ لڑکی کو بھی 1936ءمیں اس کام کے لیے بھرتی کیا گیا۔

’میں نے 60 لاکھ روپے خرچ کرکے اپنا جسم ایسا کروالیا کیونکہ میں چاہتی تھی موت سے پہلے۔۔۔‘ خاتون نے اپنی اس طرح سرجری کروانے کی ایسی وجہ بتادی کہ آپ کبھی سوچ بھی نہیں سکتے

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک)امریکہ میں ایک خاتون نے 60لاکھ روپے سے زائد رقم خرچ کرکے سرجری کروائی اور اپنا پورا جسم سانپ جیسا بنوا لیا ہے۔ اب اس نے اس حرکت کی ایسی وجہ بیان کر دی ہے کہ کوئی سوچ بھی نہ سکتا تھا۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق امریکی ریاست ٹیکساس کی ایواٹیامیٹ میڈوسا نامی یہ خاتون دراصل خاتون بھی نہیں ہے، یہ پیدائشی طور پر مرد تھا لیکن کئی سال قبل سرجری کروا کے عورت بن گیا تھا۔ اس قبیح حرکت کے باعث اسے ایڈز کا مرض لاحق ہو گیا اور اس نے دوبارہ بارہا سرجری کروا کے اب اپنا جسم سانپ جیسا بنا لیا ہے، جلد کی رنگت کے ساتھ ساتھ اس نے اپنی زبان بھی سانپ کی طرح دوشاخی بنوا لی ہے اورسر پر دو سینگ بھی لگوا لیے ہیں۔

ٹیکساس کے شہر برونی کی ایوا ٹیامیٹ نے جسم میں اس تبدیلی کی کا راز اب منکشف کر دیا ہے اور بتایا ہے کہ ”جب مجھے ایڈز لاحق ہوا تو میں نے اپنا جسم سانپ کی شکل میں تبدیل کروانے کا فیصلہ کر لیا کیونکہ میں انسان کی شکل میں نہیں مرنا چاہتی تھی۔ میں چاہتی تھی کہ جب میں مروں تو میری شکل سانپ جیسی ہو۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ انسان دنیا میں جانوروں کی انتہائی بہترین قسم بھی ہے لیکن یہی سب سے زیادہ قابل نفرت بھی ہے کیونکہ یہ انسان ہی ہے جو دنیا کو تباہی کی طرف لیجا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں انسان کی شکل میں نہیں مرنا چاہتی۔“ واضح رہے کہ1997ءمیں ایوا ایک مرد کے طور پر زندگی گزار رہی تھی۔ اس کا نام رچرڈ ہرنینڈیز تھا اوروہ امریکہ کے بڑے بینکوں میں سے ایک کے نائب صدر کے عہدے پر فائز تھا۔لیکن 1998ءمیں وہ سرجری کروا کے عورت بن گیا۔

”کالج کے باہر مجھے ایک شخص نے پانی کا غبارہ مارا لیکن اس پانی میں سے آنے والی بدبو ایسی تھی کہ ۔۔۔“ نوجوان طالبہ شکایت لے کر پرنسپل کے پاس پہنچ گئی، غبارے میں ایسا کیا تھا؟ جان کر ہی آپ کے ہوش اڑ جائیں گے

نئی دلی (ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارتی دارالحکومت نئی دلی کو دنیا کا ریپ کیپٹل بھی کہا جاتا ہے جہاں کسی خاتون کی عزت محفوظ نہیں ہے، اس شہر میں خواتین کو چلتی گاڑیوں میں زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے جبکہ راہ چلتی
لڑکیوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ عام بات ہے لیکن اب جنسی ہیجان میں مبتلا بھارتیوں نے نوجوان لڑکیوں کے ساتھ ایسا کام کرنا شروع کردیا ہے کہ جس کی اس سے پہلے کوئی مثال دیکھنے کو نہیں ملتی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی ہندو یکم اور 2 مارچ کو ہولی کا تہوار منا ئیں گے اور اس سلسلے میں تقریبات کا آغاز کئی روز پہلے سے ہی ہوچکا ہے۔ ہولی کو رنگوں کا تہوار کہا جاتا ہے جس کے دوران لوگ ایک دوسرے پر رنگ اور پانی پھینکتے ہیں لیکن دلی کے لیڈی شری رام کالج کی طالبات کو اس تہوار کے موقع پر عجیب پریشانی کا سامنا ہے۔ اہل علاقہ نے کالج کی طالبات کو مادہ منویہ سے بھرے ہوئے غبارے مارنا شروع کردیے ہیں۔

سب سے پہلا واقعہ دو ہفتے قبل پیش آیا جب نفسیات کی ایک طالبہ پر یہ غلاظت پھینکی گئی۔ طالبہ کا کہنا ہے کہ کالج کے باہر موٹر سائیکل سوار آیا اور اس نے اسے پانی سے بھرا ہوا غبارہ مارا ۔ ’ میں نے سیاہ رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے تھے، پانی خشک ہونے پر کپڑوں پر سفیدی جم گئی جبکہ اس میں بدبو بھی عجیب طرح کی آرہی تھی، میں ہوسٹل گئی اور اپنی ساتھی لڑکی سے یہ واقعہ بیان کیا تو اس نے بتایا کہ مجھے غبارے میں بھر کر کیا چیز ماری گئی ہے جس کے بعد ہم نے پرنسپل سے شکایت کی‘۔

بعض دیگر لڑکیوں کی شکایت پر کالج کی تمام طالبات کو کانفرنس روم میں اکٹھا کیا گیا اور ان سے استفسار کیا گیا تو یہ بات سامنے آئی کہ 40 سے زائد طالبات کے ساتھ یہ شرمناک واقعہ پیش آچکا ہے۔
واضح رہے کہ دلی میں دنیا کے کسی بھی شہر سے زیادہ جنسی زیادتی و استحصال کے واقعات پیش آتے ہیں۔ بھارت کے نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کی رپورٹ کے مطابق سال 2016 میں انڈیا کے 19 بڑے شہروں میں سے 40 فیصد جنسی زیادتی کے واقعات دلی شہر میں پیش آئے جبکہ اسی سال 19 بڑے شہروں میں خواتین کے خلاف جرائم کے 41 ہزار 761 واقعات پیش آئے جن میں سے 33 فیصد یعنی 13 ہزار 803 واقعات صرف دلی شہر میں پیش آئے

بچے کی پیدائش کے دوران اگر خواتین یہ چیز ہاتھ میں پکڑلیں تو درد بہت کم ہوجاتا ہے، سائنسدانوں نے انتہائی حیران کن طریقہ بتادیا

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) زچگی کے درد کو جان کنی کی تکلیف سے مشابہہ کہا جاتا ہے تاہم اب سائنسدانوں نے دردِ زہ کو کم کرنے کا ایک انتہائی حیران کن طریقہ بتا دیا ہے۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق امریکی سائنسدانوں نے بتایا ہے کہ ”اگر خواتین بچے کو جنم دینے کے دوران اپنے شوہر کا ہاتھ تھام لیں تو ان کے درد کی شدت کم ہو جاتی ہے۔“ اس کی وجہ انہوں نے یہ بیان کی ہے کہ شریک حیات کی محبت دماغ میں ایسی تبدیلی لاتی ہے جس سے خواتین کے لیے تکلیف برداشت کرنا آسان ہو جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس تحقیق میں امریکہ کی یونیورسٹی آف کولوریڈا کے سائنسدانوں نے 20خواتین پر تجربات کیے۔ انہوں نے ان خواتین کے پاﺅں پر ایک جتنا گرم پانی ڈالا۔ ایسے میں ان میں سے آدھی خواتین تنہاءتھیں جبکہ آدھی کے ہاتھ ان کے شوہروں نے تھام رکھے تھے جن سے وہ محبت کرتی تھیں۔اس دوران آلات کے ذریعے سائنسدانوں نے ان خواتین میں تکلیف کی شدت کی پیمائش کی تو معلوم ہوا کہ جن خواتین کے ہاتھ ان کے شوہروں نے تھام رکھے تھے انہیں تکلیف کا احساس باقی خواتین کی نسبت آدھے سے بھی کم ہوا۔تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر پاویل گولڈ سٹین کا کہنا تھا کہ ”مجھے اس تحقیق کا خیال اس وقت آیا جب میری اہلیہ نے بیٹی ایملی کو جنم دیا۔ اس دوران میں نے اس کا ہاتھ تھام رکھا تھا، بعدازاں میری اہلیہ نے بتایا کہ اس وجہ سے اسے درد کا احساس کم ہوا۔ اس پر میں نے یہ تحقیق کرنے کا فیصلہ کیا اور واقعی اس کی بات درست ثابت ہوئی۔“

ابوظہبی میں مقیم اس شہری کے کان سے اچانک پانی بہنے لگا، ڈاکٹر کے پاس گیا تو اندر دراصل کیا تھا؟ ڈاکٹر نے ایسی بات کہہ دی کہ کبھی سوچ بھی نہ سکتا تھا

ابوظہبی(نیوز ڈیسک) کان بہنا ایک عام پایا جانے والا مسئلہ ہے اور اس کے حل کے لئے عموماًگھریلو ٹوٹکوں کو ہی کافی خیال کیا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے کیونکہ اگر یہ بگڑ جائے تو کان سے شروع ہونے والا مسئلہ دماغ تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ متحدہ عرب امارات میں مقیم بھارتی شہری گنگا پرساد ریڈی کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ ایک ایسی ہی پریشان کن مثال ہے۔

گلف نیوز کے مطابق 33 سالہ گنگا کے کان سے پیپ بہنے کا سلسلہ شروع ہوا تو وہ بھی یہی سمجھ رہا تھا کہ یہ کوئی تشویش ناک بات نہیں ہے مگر محض ایک ماہ بعد اس کے جسم کی دائیں طرف پوری طرح مفلوج ہوگئی اور بولنے کی صلاحیت بھی ختم ہو گئی۔ جب اسے ابوظہبی کے NMC سپیشلٹی ہسپتال لے جایا گیا تو نیورو سرجن ڈاکٹر شنکر کوتی نے اس کا تفصیلی معائنہ کرنے کے بعد بتا چلایا کہ اس کے کان کا انفیکشن پیچیدہ اعصابی بیماری کی شکل اختیار کرگیا تھا۔

ڈاکٹر شنکر کا کہنا تھا کہ اکثر لوگ کان کے انفیکشن کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیتے لیکن اگر اس میں بگاڑ پیدا ہوجائے تو یہ انتہائی خطرناک اعصابی بیماری کی شکل بھی اختیار کرسکتاہے، جیساکہ گنگا پرساد کے کیس میں ہوا۔ کان کا انفیکشن بڑھتے بڑھتے اس کے دماغ تک پہنچ گیا تھا اور دماغ کے سامنے والے حصے میں بائیں طرف ایک آبلا بن گیا تھا۔ یہ آبلا ایک خطرناک رسولی کی طرح گنگا پرساد کے دماغ پر اثر انداز ہورہا تھا اور اس کی وجہ سے اس کا جسم آدھا مفلوج ہوگیا تھا۔ ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ اگر وہ ہسپتال نہ پہنچتا تو عنقریب اس کا باقی جسم بھی مفلوج ہوجاتا۔

’مرد مجھے 2 لاکھ روپے دیتے ہیں تاکہ میں انہیں کتوں کی طرح۔۔۔‘ خاتون نے ایسا راز بے نقاب کردیا کہ جان کر مردوں کو بھی یقین نہ آئے کہ کوئی ایسا بھی کرسکتا ہے

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) مغربی دنیا میں ’ڈومینیٹرکس‘ (Dominatrix)خواتین کے لیے ایک باقاعدہ پیشہ بن چکا ہے جن کے پاس مرد اپنی تذلیل کروانے آتے ہیں اور اس کے عوض انہیں بھاری رقوم بطور فیس دیتے ہیں۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ کی 31سالہ بلس تھیاڈورا نامی خاتون بھی یہی کام کرتی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس کی فیس 1500پاﺅنڈ (تقریباً 2لاکھ 30ہزار روپے) ہے اور مرد اس کے پاس اس لیے آتے ہیں کہ وہ ان کے ساتھ کتوں جیسا سلوک کرے۔

تھیاڈورا بنیادی طور پر آسٹریلوی شہری ہے جو اس کام کے لیے لندن منتقل ہو چکی ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ ”میں مردوں پر کئی طرح سے تشدد کرتی ہوں۔ میں ان کے جسم کو بطور ایش ٹرے بھی استعمال کرتی ہوں اور ان پر سگریٹ بجھاتی ہوں، جس کے عوض وہ مجھے پیسے دیتے ہیں، میرے تمام گاہک اعلیٰ عہدوں پر فائز مرد ہوتے ہیں جو اپنی زندگی میں بااختیار اور طاقتور ہوتے ہیں، میں انہیں خوب ذلیل و رسوا کرتی ہوں اور ان پر تشدد کرتی ہوں۔ ان چیزوں سے انہیں جنسی تسکین حاصل ہوتی ہے اور وہ بار بار میرے پاس آتے ہیں۔“