اللہ نے” عصر کی قسم “کیو ں کھائی اورکیوں فرمایا؟ انسان خسارے میں ہے

میں نے عرض کیا ’’خواجہ صاحب سائنس نے کمال کر دیا ہے ٗ قدرتی آفتیں اور بیماریاں انسان کے دو بڑے مسئلے ہیں ٗ سائنس ان دونوں کے حل کے قریب پہنچ چکی ہے ٗ اب وہ وقت دور نہیں جب انسان آفتوں اور عذابوں کے ہاتھ سے نکل آئے گا‘‘ وہ مسکرا کر میری طرف دیکھتے رہے ٗ وہ نرم آواز میں بولے ’’مثلاً سائنس نے کیا کر دیاہے‘‘ میں نے عرض کیا ’’سر زلزلے ٗ آتش فشاں ٗ آندھیاں ٗ طوفان اور سیلاب پانچ بڑی آفتیں ہیں ٗ سائنس نے ان آفتوں کی پیش گوئی کا سسٹم بنا لیا ہے ٗ

سائنس دانوں نے ایک ایسا کیمرہ بنایا ہے جو آتش فشاں کے پیندے میں چلا جاتا ہے اور وہاں آنے والی تبدیلیاں نوٹ کر لیتاہے ٗ ماہرین یہ تبدیلیاں دیکھ کر پیشن گوئی کر سکیں گے فلاں آتش فشاں فلاں دن اور فلاں وقت ابل پڑے گا ٗ اس سسٹم کے بعد آتش فشاں کے قریب آباد لوگ وہاں سے بروقت نقل مکانی کر جائیں گے ٗ یوں بے شمار لوگوں کی جانیں اور املاک بچ جائیں گی‘‘ خواجہ صاحب سکون سے سنتے رہے ٗ میں نے عرض کیا ’’زلزلے کے ماہرین نے ایک ایسی سلاخ بنائی ہے جو زمین کی تہہ میں پچاس ساٹھ کلومیٹر نیچے چلی جائے گی ٗیہ زمین کے اندر موجود پلیٹوں کی حرکت نوٹ کرے گی اب جونہی کسی پلیٹ میں کسی قسم کی حرکت ہوگی ماہرین زلزلے سے کہیں پہلے زلزلے کی شدت ٗ اس کے مرکز اور اس سے متاثر ہونے والے علاقے کا تخمینہ لگا لیں گے ٗ ماہرین اس علاقے کے لوگوں کوبروقت مطلع کردیں گے لہٰذا وہ لوگ زلزلے سے پہلے گھروں اور دفتروں سے باہر آ جائیں گے ٗ یوں ہزاروں لاکھوں زندگیاں بچ جائیں گی ٗ ماہرین نے عمارتوں کے ایسے ڈھانچے بھی بنا لئے ہیں جو ساڑھے نو درجے کی شدت سے آنے والے زلزلے میں بھی عمارت کو نقصان نہیں پہنچنے دیں گے چنانچہ وہ وقت دور نہیں جب زلزلے آئیں گے لیکن لوگ اطمینان سے اپنے معمول کے کام کرتے رہیں گے ‘‘ خواجہ صاحب بڑی توجہ سے میری بات سنتے رہے ٗ میں نے عرض کیا ’’بیماریاں

انسان کا سب سے بڑا مسئلہ ہیں ٗ سائنس دانوں نے اندازہ لگایا ہے ہمارے جینز میں ساڑھے چار ہزار بیماریاں ہوتی ہیں ٗ ہر بیماری کا ایک الگ جین ہوتا ہے ٗ سائنس دانوں نے اڑھائی ہزار مہلک بیماریوں کے جینز تلاش کر لئے ہیں لہٰذا اب وہ وقت دور نہیں جب سائنس دان تکلیف شروع ہونے سے پہلے کسی شخص کا معائنہ کریں گے ٗ اس میں پروان چڑھنے والے جینز دیکھیں گے ٗ ان جینز کو صحت مند جینز
کے ساتھ بدل دیں گے اور مریض مرض کے حملے سے

پہلے ہی صحت مند ہو جائے گا ٗ انسانی کلوننگ کا عمل بھی شروع ہونے والا ہے ٗ اگلے دس بیس برس میں انسان مرنے سے پہلے دوبارہ جنملینا شروع کر دے گا‘‘ خواجہ صاحب نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلادیا ٗ میں نے عرض کیا ’’اس طرح سائنس دانوں نے آندھیوں ٗ طوفانوں اور سیلابوں کی پیدائش کے مراکز بھی تلاش کر لئے ہیں ٗ ماہرین کا کہنا ہے اگر ان آفتوں کے مراکز تباہ کر دئیے جائیں تو یہ آفتیں پیدا نہیں ہونگیں ٗ سائنس دان ایسے آلے بنا رہے ہیں

حضرت علی رضی اللہ عنہ کا وہ قول جس پرعمل کر کے جاپانی دنیا کی سب سے ترقی یافتہ قوم بن گئے ۔۔ کیا آپ جانتےہیں کہ حضرت علیؓ کا وہ قول کونسا ہے؟

کسی بھی قوم کی ترقی کا راز اس قوم کی تعلیم و تربیت پر منحصر ہوتا ہے اور آپ یہ جان کر حیران رہ جائیں گے کہ شمالی یورپ کا ایک چھوٹا سا ملک فن لینڈ بھی ہے جو رقبے کے لحاظ سے 65 جبکہ آبادی کے اعتبار سے دنیا میں 114 ویں نمبر پر ہے۔ ملک کی کل آبادی 55 لاکھ کے لگ بھگ ہے لیکن آپ کمال دیکھیں اس وقت تعلیمی درجہ بندی کے اعتبار سےفن لینڈ پہلے نمبر پر ہے جبکہ ” سپر پاور ” امریکا 20ویں نمبر پر ہے۔2020 ء تک فن لینڈ

دنیا کا واحد ملک ہوگا جہاں مضمون ( سبجیکٹ ) نام کی کوئی چیز اسکولوں میں نہیں پائی جاتی، فن لینڈ کا کوئی بھی اسکول زیادہ سے زیادہ 195 بچوں پر مشتمل ہوتا ہے جبکہ 19 بچوں پر ایک ٹیچر۔ دنیا میں سب سے لمبی بریک بھی فن لینڈ میں ہی ہوتی ہے، بچے اپنے اسکول ٹائم کا 75 منٹ بریک میں گزارتے ہیں، دوسرے نمبر پر 57 منٹ کی بریک نیو یارک کے اسکولوں میں ہوتی ہے جبکہ ہمارے یہاں اگر والدین کو پتہ چل جائے کہ کوئی اسکول بچوں کو ” پڑھانے” کے بجائے اتنی لمبی بریک دیتا ہے تو وہ اگلے دن ہی بچے اسکول سے نکلوالیں۔

خیر، آپ دلچسپ بات ملاحظہ کریں کہ پورے ہفتے میں اسکولوں میں محض 20 گھنٹے ” پڑھائی ” ہوتی ہے۔ جبکہ اساتذہ کے 2 گھنٹے روز اپنی ” اسکلز ” بڑھانے پر صرف ہوتے ہیں۔ سات سال سے پہلے بچوں کے لیےپورے ملک میں کوئی اسکول نہیں ہے اور پندرہ سال سے پہلے کسی بھی قسم کا کوئی باقاعدہ امتحان بھی نہیں ہے۔ ریاضی کے ایک استاد سے پوچھا گیا کہ آپ بچوں کو کیا سکھاتے ہیں تو وہ مسکراتے ہوئے بولے ” میں بچوں کو خوش رہنا اور دوسروں کو خوش رکھنا سکھاتا ہوں، کیونکہ اس طرح وہ زندگی کہ ہر سوال کو با آسانی حل کرسکتے ہیں “۔آپ جاپان کی مثال لے لیں تیسری جماعت تک بچوں کو ایک ہی مضمون سکھا یا جاتا ہےاور وہ ” اخلاقیات ” اور ” آداب ” ہیں۔ حضرت علیؓ نے فرمایا

“جس میں ادب نہیں اس میں دین نہیں “۔ مجھے نہیں معلوم کہ جاپان والے حضرت علیؓ کو کیسے جانتے ہیں اور ہمیں ابھی تک ان کی یہ بات معلوم کیوں نہ ہو سکی۔بہر حال، اس پر عمل کی ذمہ داری فی الحال جاپان والوں نے لی ہوئی ہے۔ ہمارے ایک دوست جاپان گئے اور ایئر پورٹ پر پہنچ کر انہوں نے اپنا تعارف کروایا کہ وہ ایک استاد ہیںاور پھر ان کو لگا کہ شاید وہ جاپان کے وزیر اعظم ہیں۔اشفاق احمد صاحب مرحوم کو ایک دفعہ اٹلی میں عدالت جانا پڑا اور انہوں نے بھی اپنا تعارف کروایا کہ میں استاد ہوں وہ لکھتے ہیں کہ جج سمیت کورٹ میں موجود تمام لوگ اپنی نشستوں سے کھڑے ہوگئے اس دن مجھے معلوم ہوا کہ قوموں کی عزت کا راز استادوں کی عزت میں ہے۔یہ ہے قوموں کی ترقی اور عروج و زوال کا راز۔جاپان میں معاشرتی علوم

” پڑھائی” نہیں جاتی ہے کیونکہ یہ سکھانے کی چیز ہےپڑھانے کی نہیں اور وہ اپنی نسلوں کو بہت خوبی کے ساتھ معاشرت سکھا رہے ہیں۔ جاپان کے اسکولوں میں صفائی ستھرائی کے لیے بچے اور اساتذہ خود ہی اہتمام کرتے ہیں، صبح آٹھ بجے اسکول آنے کے بعد سے 10 بجے تک پورا اسکول بچوں اور اساتذہ سمیت صفائی میں مشغول رہتا ہے۔دوسری طرف آپ ہمارا تعلیمی نظام ملاحظہ کریںجو صرف نقل اور چھپائی پر مشتمل ہے،ہمارے بچے ” پبلشرز ” بن چکے ہیں۔ آپ تماشہ دیکھیں جو کتاب میں لکھا ہوتا ہے اساتذہ اسی کو بورڈ پر نقل کرتے ہیں، بچے دوبارہ اسی کو کاپی پر چھاپ دیتے ہیں، اساتذہ اسی نقل شدہ اور چھپے ہوئے مواد کو امتحان میں دیتے ہیں، خود ہی اہم سوالوں پر نشانات لگواتے ہیںاور خود ہی پیپر بناتے ہیں

اور خود ہی اس کو چیک کر کے خود نمبر بھی دے دیتے ہیں،بچے کے پاس یا فیل ہونے کا فیصلہ بھی خود ہی صادر کردیتے ہیں اور ماں باپ اس نتیجے پر تالیاں بجا بجا کر بچوں کے ذہین اور قابل ہونے کے گن گاتے رہتے ہیں،جن کے بچے فیل ہوجاتے ہیں وہ اس نتیجے پر افسوس کرتے رہتے ہیں اور اپنے بچے کو ” کوڑھ مغز ” اور ” کند ذہن ” کا طعنہ دیتے رہتے ہیں۔ ہم 13، 14 سال تک بچوں کو قطار میں کھڑا کر کر کے اسمبلی کرواتے ہیں اوروہ اسکول سے فارغ ہوتے ہی قطار کو توڑ کر اپنا کام کرواتے ہیں، جو جتنے بڑے اسکول سے پڑھا ہوتا ہے قطار کو روندتے ہوئے سب سے پہلے اپنا کام کروانے کا ہنر جانتا ہے ۔طالبعلموں کا اسکول میں سارا وقت سائنس ” رٹتے

” گزرتا ہےاور آپ کو پورے ملک میں کوئی ” سائنس دان ” نامی چیز نظر نہیں آئے گی کیونکہ بدقسمتی سے سائنس ” سیکھنے ” کی اور خود تجربہ کرنے کی چیز ہےاور ہم اسے بھی ” رٹّا” لگواتے ہیں۔آپ حیران ہوں گے میٹرک کلاس کا پہلا امتحان 1858ء میں ہوا اور برطانوی حکومت نے یہ طے کیا کہ بر صغیر کے لوگ ہماری عقل سے آدھے ہوتے ہیں اس لیے ہمارے پاس ” پاسنگ مارکس ” 65 ہیںتو بر صغیر والوں کے لیے 32 اعشاریہ 5 ہونے چاہئیں۔ دو سال بعد 1860ء میں اساتذہ کی آسانی کے لیے پاسنگ مارکس 33 کردیے گئےاور ہم میں بھی ان ہی 33 نمبروں سے اپنے بچوں کی ذہانت کو تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔علامہ اقبال ؒ کے شعر کا یہ مصرعہ اس تمام صورتحال کی صیح طریقے سے ترجمانی کرتا نظر آتا ہے کہ۔۔شاخ نازک پر بنے گا جو آشیانہ ، ناپائیدار ہو گا۔

ایک عورت نے زنا سے بچنے کے لیے کونسا راستا اپنا لیا

مولانا صاحب کہتے ہیں کہ مجھے ایک بیوہ کا فون آیا کہ میں اپنے آپ کو گناہ سے نہیں روک پا رہی بغیر اپنے شوہر کے تو میں معمولی سہ گناہ کرکے اپنی مشاہبت مٹا دیتی ہوں تو کیا یہ ٹھیک ہے؟ مولانا صاحب کہتے ہیں کہ یہ گناہ ہے ایسا مت کرو، تم کو چاہئے کہ کسی مرد سے نکاح کرلو اور ایسے گناہوں سے بچ جاو گی اس نے کہا کہ مولانا صاحب مجھ سے کوئی بھی نکاح کے لیے راضی نہیں ہےتو میں کیا کرو۔

مولانا کہتے ہیں کہ کسی مرد سے بس اسی لیے ہی نکاح کرلو وہ مرد کرلے گا تو عورت کہنے لگی کہ مجھے کوئی بھی نہیں رکھ رہا سب ہی کہتے ہیں کہ میں اپنے حاندان کو کیا جواب دونگا اپنے محلے والوں کو کیا جواب دونگا تو میں چپ کر جاتی ہوں اور ھد لزتی کرکے اپنا دل بہلا لیتی ہوں مولانا صاحب فرماتے ہیں کہ یہ مرد جو ایسا کہتے ہیں وہ حد تو رات میں فحش فلمیں دیکھ لیتے ہیں اور دنیا جہاں کے برے کام کر لیتے ہیں لیکن ایک بیوہ سے نکاح نہیں کرتا کہ معاشرے میں کیا جواب دونگا تو ویسے اگر کسی مرد کو بولو کے کسی جگہ بمب رکھ آو تو وہ کردے گا لیکن نکاح کرنا اس کے لیے اتنا ہی مشکل ہے، اللہ نے فرمایا کہ برے کاموں اور زنا سے بچنے کے لیے شادی کا کہا ہے اور مرد اور عورت ایک دوسرے کے لیے ہیں بہت سے لوگ یہ شکوہ کرتے ہیں کہ شادی کے لیے پیسے نہیں ہیں وسائل نہیں ہیں تو مولانا صاحب فرماتے ہیں کہ اگر ایسا ہی ہوتا اگر شادی کرنا پیسوں سے ہوتا تو اللہ قرآن میں کہ دیتا اور فرقیروں کے لیے کوئی اور راستہ بتا دیتا، آج کل ہی تو ماعملہ ہے جس وجہ سے زنا عام ہورہا ہے سکولوں کالجوں میں یہ کام عام ہوگیا ہے، لیکن لوگ یہ بات نہیں سمجھ رہے، اگر عورت گھر آجائے گی تو کیا آپکا گھر کا کھانا کم ہوجائے گا؟

سوال نمبرالسلام علیکم مفتی صاحب! میری عمر 33 سال ہے میں‌ ایک 27 سالہ خاتون سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ ہم دونوں یونیورسٹی لیول تک تعلیم یافتہ ہیں۔ ہم دونوں‌ شادی کے لیے رضامند ہیں‌، مگر خاتون کے والدین ابھی شادی کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ہم دونوں‌ کئی بار مل چکے ہیں‌ اور ہمارے گناہ میں‌ مبتلاء ہونے کا امکان ہے۔ گناہ اور زنا سے بچنے کے لیے کیا ہم خفیہ نکاح‌ کر سکتے ہیں؟ جس میں نکاح‌ کی تمام شرائط پوری کی جائیں‌ گی، صرف لڑکی کے والدین کو خبر نہیں‌ ہوگی۔ اور دوسری بات کیا خفیہ نکاح‌ کے بعد اعلانیہ نکاح‌ کرنا جائز ہے؟

جواب: بغیر نکاح کے آپ لوگوں کا ملنا حرام ہے، اس لیے اس سے اجتناب کریں ورنہ گناہ میں مبتلا رہیں گے۔
اولاً کوشش کریں کہ لڑکی کے گھر والے مان جائیں اور ان کی موجودگی میں نکاح ہوجائے، یہ آپ دونوں کے لیے فائدہ مند ہے۔ اگر پوری کوشش کرنے کے باوجود لڑکی کے گھر والے نہیں مانتے تو آپ اپنے گھر والوں کو شامل کر کے نکاح پڑھ لیں۔ نکاح کے لیے دو عاقل و بالغ مردوں کا گواہ ہونا ضروری ہے ورنہ نکاح منعقد نہیں ہوگا۔ بعد میں بےشک روزانہ نکاح پڑھتے رہیں، کوئی حرج نہیں

آلو کے چند ٹکڑے،ایک پتیلا پانی عمر بھر کیلئے آپ کے سفید بال کالے سیاہ ہو جائینگے

اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے سفید بال عمر بھر کیلئے سیاہ کالے ہو جائیں تو یہ ٹوٹکہ استعمال کریں ،سفید بالوں کیلئے: آلو کے چند خشک ٹکڑے ایک پاؤ لوہے کے برتن میں آدھ کلو پانی ڈال کر ایک دن کیلئے رکھ دیں دوسرے دن اس پانی کو لگائیں‘ بال سیاہ ہوجائیں گے۔ چند ہفتے چند مہینے یہ ٹوٹکہ ضرور آزمائیں۔کالے اور لمبے بال: ناریل کا تیل مٹھی بھر مہندی کے پتے ڈال کر ابال لیں‘ روزانہ بالوں پرلگانے سے بال لمبے اور گھنےہوجائیں گے۔چہرے کا مساج: چہرے پر اکثر دانوں کے ٹھیک ہوجانے کے بعد

دانوں کا نشان باقی رہ جاتا ہے تو چہرے پر دانوں کیلئے روغن زیتون اور روغن کدو کو برابر (باؤل) میں ڈال کر گال کا مساج کریں اور تب تک مساج کریں جب تک دھبے دور نہ ہوجائیں۔چہرے کے داغ دھبوں کیلئے: لیموں کے چھلکے پیس کر دودھ میں ڈال کر ملائیں اور رات کو سونے سے پہلے چہرے پر لگانے سے داغ دھبےحلقے دور ہوجائیں گے۔جلد نکھارئیے: تازہ دودھ میں گلیسرین ڈال کر چہرے پر لگانےسے جلد نکھر جاتی ہے۔آنکھوں کےحلقوں کیلئے: ملائی میں چند قطرے لیمن کا رس ملا کر چہرے پر لگانے سے حلقے دور ہوجاتے ہیں۔پاؤں کی بدنمائی کیلئے: نیم گرم پانی میں نمک ڈال کر پاؤں اس میں رکھ دیں‘ تقریباً بیس منٹ تک رہنے دیں‘ اس کے بعد کوئی بھی کولڈ کریم لگائیں۔ مزید پاؤں کی جھریوں کیلئے پٹرولیم جیلی کو متاثرہ حصہ پر لگانے سے جھریاں ختم ہوجاتی ہیں۔اگر آپ کے ساتھ بھی یہ مسائل ہیں تو آج سے ہی ان ٹوٹکوں پر عمل کرنا شروع کردیں۔

حضرت علیؓ کا فوری جھوٹ پکڑنے کا آسان طریقہ

حضرت علی رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ رستے سے گزر رہے تو آپ نے دیکھا ایک شخص رستے میں بیٹھا سوچ رہا تھا حضرت علی قریب آئے اور سر پر ہاتھ رکھ کر کہا اے بندے تم پریشان کیوں بیٹھے ہو اس شخص نے کہا اے امیر المومنین ہر شخص مجھ سے جھوٹ بولتا ہے جیسے میںدنیا کا بیوقوف ترین انسان ہوں گھر والے جھوٹ بولتے ہیں باہر والے جھوٹ بولتے ہیں وقت کے بعد معلوم ہوتا ہے اس نے جھوٹ بولا میں کیا کروں تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مسکرا کر فرمایا تم پریشان نہ ہو اگر تم یہ چاہتے ہو کسی شخص کا جھوٹ وقت سے پہلے تم پر واضع ہو جائے

تو تم بات کرتے وقت نوٹ کیا کرو اگر بات کرنے والا جھوٹ بنائے گا تو وہ تمہارے ایک لفظ اور بات کو دھرائے گا اور اسی وقت میں وہ جھوٹ بنا کر تمہارے سامنے پیش کر ے گا اگر کوئی شخص پہلے سے ہی جھوٹ بنا کر تمہارے سامنے آیا ہو تو تم نوٹ کرو وہ بات کرنے کے دوران کسی نہ کسی حرکت کو دھراتا رہے گا یا تو اپنے قدم آگےپیچھے کرتا رہے گا یا تو اپنے ہاتھ کی ہتھیلی کھولے گا بند کرے گا یا تو نظریں آگے پیچھے کر ے گا یا بغیر آنکھیں بند کئے غور سے تمہاری آنکھوں میں دیکھتا رہے گا یا زبان باہر نکال کر اندر کرے گا یا اپنے ہو نٹوں کو دبائے گا بس تم سمجھ جانا کہ یہ انسان جھوٹ بول رہا ہے

اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضو دوبارہ کرنا پڑتاہے؟

لاہور (نظام الدولہ) ہمارے ہاں اونٹ کی قربانی کا رواج عام ہوچلا ہے۔قربانی کے علاوہ عام دنوں میں بھی اونٹ کا گوشت کھایا جانے لگا ہے۔ بہت سے مسلمان سوال اٹھاتے ہیں کہ اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد نماز کیلئے دوبارہ وضو کرنا چاہئے؟۔اس حوالہ سے جب منہاج القرآن کے مفتی عبدالقیوم ہزاروی سے فتویٰ آن لائن میں سوال کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضو کتنا لازم ہے،اس کا مستند جواب احادیث کی روشنی میں دیکھنا چاہیے۔انہوں نے صحیح مسلم کی ایک حدیث مبارکہ کا ذکر کیا کہ حضرت جابر بن سمرہؓ کے حوالہ سے معروف ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا کہ کیا بکری کا گوشت کھانے کے بعد وضو کیا کریں؟ آپﷺ نے فرمایا” اگر چاہو تو وضو کرو، اور اگر چاہو تو نہ کرو“ اس شخص نے پوچھا ”کیا ہم اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضو کیا کریں؟ “

آپ ﷺ نے فرمایا” ہاں اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضو کیا کرو“ اس شخص نے پوچھا ”کیا میں بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لیا کروں؟“ آپﷺ نے فرمایا ”ہاں“ اس نے پوچھا ”کیا میں اونٹ بٹھانے کی جگہ نماز پڑھ لیا کروں؟“ آپﷺ نے فرمایا ”نہیں“
اسیطرح دوسری حدیث کا حوالہ دیا کہ حضرت اسید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا” اونٹ کا گوشت کھا کر وضو کیا کرو، بکری کا گوشت کھا کر وضو مت کیا کرو اور بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لیا کرو لیکن اونٹوں کے باڑے میں نماز نہ پڑھا کرو“
ان احادیثِ مبارکہ میں وضو کرنے سے مراد پانی استعمال کرنا ہے۔ اونٹ کے گوشت میں چکنائی بہت زیادہ ہوتی ہے اس لیے اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد ہاتھ اور منہ دھونے کی ترغیب دی گئی ہے۔ ان روایات میں اونٹ کا گوشت کھا کر ہاتھ دھونے اور کلی کرنے کا درس دیا گیا ہے نہ کہ باقاعدہ وضو کرنے کا۔

شادی کی پہلی رات سب لوگوں کے سامنے گزاری

شادی کی پہلی رات سب لوگوں کے سامنے گزاری شادی کی پہلی رات سب لوگوں کے سامنے گزاری شادی کی رات سبھی کے لیے ایک یادگار رات ہوتی ہے لیکن بحث و مباحثے کی ویب سائٹ Redditپر ایک شخص نے اپنی شادی کی رات کے متعلق ایسا مضحکہ خیز واقعہ بیان کر دیا ہے کہ سن کر آپ بھی ہنسے بغیر نہ رہ سکیں گے۔ دی انڈیپنڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق Redditپر صارفین اپنی سہاگ رات کے متعلق بتا رہے تھے جہاں اس صارف نے لکھا کہ:

”ہماری سہاگ رات ایک ہوٹل میں تھی۔ ہوٹل والوں نے ہمارے پہنچنے سے چند لمحے قبل ہمارا کمرہ تبدیل کر دیا تھا لیکن انہوں نے غلطی سے یہ تبدیل شدہ کمرہ کسی اور گاہک کے لیے بھی بُک کر رکھا تھا۔“”جب ہم میاں بیوی اپنی سہاگ رات کی تیاری کر چکے تھے تو اچانک دروازے پر دستک ہوئی۔ میں نے جا کر دروازہ کھولا تو سامنے ایک اور نوبیاہتا جوڑا کھڑا تھا۔ پہلے تو انہیں اور مجھے حیرت ہوئی لیکن معاملہ معلوم ہونے پر میں نے انہیں اندر بلا لیا اور بیڈ کے درمیان میں تیل انڈیل کر ایک لکیر کھینچ دی، اور نئے آنے والے جوڑے کو ایک طرف آرام فرمانے کو کہہ دیا اور دوسری طرف میں اور میری بیوی سو گئے۔ یوں ہم نے اجنبیوں کے ساتھ سوکر اپنی سہاگ رات گزاری۔ آج بھی جب ہم اس حادثہ نما واقعے کو یاد کرکے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

سورۃ الرحمٰن پڑھنے کے تو ہزاروں فائدے ہیں لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ اس کا سننا کس خطرناک بیماری کا علاج ہے

سورۂ رحمن کی ہر آیت سننے کے ساتھ اس کے جسم کے اندر ایک حرارت پیدا ہوتی ہے اور جب سورۂ رحمن کی تلاوت سننے کے بعد وہ آدھا گلاس پانی پیتا ہے تو وہ اس طرح محسوس کرتا ہے کہ جس طرح انگاروں کے اوپر پانی ڈالا جاتا ہے۔میڈیکل سائنس ہیپاٹائٹس کے امراض سے متعلق مایوسی کا شکار ہوچکی ہے۔ دنیا میں اس وقت ہیپاٹائٹس کے مرض میں مبتلا مریضوںکی رجسٹرڈ تعداد چالیس کروڑ ہے ۔

جبکہ پاکستان میں رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد دو کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے۔ ایسے میں میڈیکل سائنس کی بے بسی انسانی ذہن اور معاشرے کی تباہی کا پیغام دے رہی ہے مگر سورۂ رحمن کے سننے سےیہ مرض چند ہی ایام میںوجود سے ایسے غائب ہوجاتاہے جیسے کبھی اس کا نام و نشان ہی نہ تھا۔ سورۂ رحمن کے ذریعے لوگوں کی ذہنی‘ جسمانی اور روحانی بیماریوںکا یقینی علاج ہوتا ہے۔سورہ رحمن کی قرآن تھراپی کے ذریعے لاعلاج مریضوں کا کامیاب علاج ہوچکا ہے بلکہ بہت سے لوگوں نے بتایا کہ سورۂ رحمن سننے سے ان کی بہت سی پیچیدہ بیماریاں ختم ہوگئیں ہیں۔ سورۂ رحمن قاری عبدالباسط کی آواز میں بغیر ترجمہ پچاس منٹ کے دورانیے پر مشتمل ہے۔ جب کوئی مکمل طور پر اپنی توجہ سورۂ رحمٰن کی طرف کرکے تلاوت سنتا ہے اور اپنی آنکھیں بند کرتا ہے۔

تو سورۂ رحمٰن کی ہر آیت سننے کے ساتھ اس کے جسم کے اندر ایک حرارت پیدا ہوتی ہے اور جب سورۂ رحمٰن کی تلاوت سننے کے بعد وہ آدھا گلاس پانی پیتا ہے تو وہ اس طرح محسوس کرتا ہے کہ جس طرح انگاروں کے اوپر پانی ڈالا جاتا ہے۔ سورۂ رحمٰن کے ان مشاہدوں کا جب ناروے میں پتہ چلا تو ناروے اوسلو سے پرائم ٹی وی سے یہ پروگرام پوری دنیا میں دکھایا گیا اور سورۂ رحمٰن کے پروگرام کی افادیت نے پوری دنیا کو چونکا دیا ہے۔ انہوںنے کہا کہ جو لوگ دکھی‘ الجھن یا ذہنی کرب میں مبتلا ہوں وہ سورۂ رحمٰن کی تلاوت دن میں تین مرتبہ متواتر سات دن تک سنیں۔ تمام بیماریوں کا علاج قرآن کی آیات میں موجود ہے اگر ہم ان آیات کو غور سے سنیں۔ اس کے ذریعے کینسر‘ فالج‘ شوگر‘ ہارٹ اٹیک اور دوسرے بے شمار امراض کا علاج کیا جاچکا ہے۔

گزشتہ سات آٹھ سال سے پاکستان کے مختلف شہروں پشاور‘لاہور‘ ملتان‘ کوئٹہ‘ اسلام آباد میں ہزاروں مریضوں کا علاج ہوچکا ہے۔ دنیا کی ہربیماری کاعلاج سورۂ رحمن کی تلاوت سننے سے ممکن ہے اس لیے لوگوںکو چاہیے کہ قاری عبدالباسط کی آواز میں سورۂ رحمٰن کی بغیر ترجمہ کی کیسٹ لے کر سات دن تک سنیں‘ ان کی بیماری ختم ہوجائے گی۔

اصل وجہ تو اب سامنے آئی۔۔۔۔ پاکستانی اداکارہ عائشہ خان نے کس پر دل ہارتے ہی شوبز کو خیر باد کہہ دیا؟ مداح بھی دنگ رہ گئے

اصل وجہ تو اب سامنے آئی۔۔۔۔ پاکستانی اداکارہ عائشہ خان نے کس پر دل ہارتے ہی شوبز کو خیر باد کہہ دیا؟ مداح بھی دنگ رہ گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لاہور(تازہ ترین) اداکارہ و ماڈل عائشہ خان بہت جلد شادی کرکے بیرون ملک منتقل ہوجائیں گی۔اس بارے میں ذرائع نے بتایا ہے کہ عائشہ خان کی

یہ بھی پڑھیں: کیا میں وہاں آکر آپکے ساتھ ۔۔ طلباء کی عدالت، کپتان سے سخت سوالات مگر ایک لڑکی نے شرماتے ہوئے کیا فرمائش کردی اس پر کپتان نے کیا جواب دیا ؟

شوبز سے علیحدہ ہونے کی اصل وجہ یہی ہے کیونکہ ان پر اس حوالے سے فیملی کا دباؤ بھی تھا جبکہ وہ خود بھی کافی عرصے سے شادی کی خواہش مند تھیں۔عائشہ خان نے چند روز قبل سوشل میڈیا پر خود شوبز چھوڑنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد ان کے بارے میں طرح طرح کی افواہیں زیر گردش تھیں لیکن اب ان کے قریبی ذرائع سے اصل وجہ سامنے آگئی ہے۔عائشہ خان 20 سال شوبز انڈسٹری سے وابستہ رہیں اور اس دوران انہوں نے ایک سو کے لگ بھگ ڈراموں میں یادگار کردار کئے جس کے ساتھ ساتھ انہوں نے دو فلموں ’’یلغار‘‘ اور ’’جوانی پھر نہیں آنی‘‘میں بھی کام کیا۔عائشہ خان کوپی ٹی وی سے آن ایئر ہونے والی ڈرامہ سیریل’’مہندی‘‘ سے ملک گیر شہرت حاصل ہوئی ۔جس کے بعد انہوں نے تیزی سے ترقی کا سفر شروع کیا.عائشہ خان ہمیشہ اپنے انٹرویوز میں شادی کے بارے میں گفتگو سے کتراتی رہیں کیونکہ اس بارے میں ان کا کہنا ہے کہ یہ ان کی ذاتی زندگی ہے لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ وہ کسی پر دل ہار بیٹھی ہیں۔

شادی کے بعد میرے تمام کزن مزے لیتے ہوئے نظر آئے اس لیے میری سب سے بڑی خواہش تھی

اداکارہ ماہرہ خان نے کہاہے کہ ان کی دو ہی بڑی خواہشات تھیں ایک یہ کہ وہ جلدی سے شادی کر لیں

اور دوسری خواہش شارخ خان سے فلم میں کام کرنے کی تھی ۔تفصیلات کے مطابق ماہرہ خان آج کل برطانیہ

میں ہیں جہاں انہوں نے 20 ویں یوکے ایشین فلم فیسٹویل میں شرکت کی ، اس موقع پر انہیں فلموں اور سماجی

خدمات کے عوض ایوارڈ سے بھی نوازا گیا ۔

اس موقع پر انہوں نے گفتگو کے دوران اپنی دو بڑی خواہشات کا بھی اظہار کیا ۔ماہرہ خان نے ہنستے ہوئے بتایا

کہ جب وہ 10 سال کی ہوئیں تو ان کی سب سے بڑی خواہش تھی کہ وہ بھی جلد سے جلد شادی کرلیں، کیوں

کہ اس وقت ان کے تمام کزنز کی شادیاں ہو رہی تھیں، جس میں وہ بڑے مزے لیتے ہوئے نظر آئے اور انہیں لگا

کہ شادی کرنا زندگی کا سب سے بڑا مزا ہے۔انہوں نے اپنی دوسری خواہش بتاتے ہوئے کہا کہ ان کی خواہش تھی

کہ وہ بولی وڈ کنگ شاہ رخ خان کے ساتھ فلم میں کام کریں۔