جادوئی پودا ایلویرا کے جادوئی اثرات

چہرے کی خوبصورت کے لئے صدیوں سے لوگ ایلو ویرا استعمال کرتے آرہے ہیں۔ عام طور پر ایلوویرا کو سورج کی تیز روشنی سے متاثرہ جلد دوبارہ ٹھیک کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم حال ہی میں کی جانے والی ریسرچ کے مطابق ایلوویرا چہرے کی نکھار میں اضافے کیلئے بیش بہا خزانہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حسن کی حفاظت کیلئے مصنوعات تیار کر نے والی بیشتر کمپنیاں ایلو ویرا کا استعمال کرتی ہیں۔

علا وہ ازیں ماہرین صحت کی رائے کے مطابق ایلو ویرا کا جلد کی اوپری سطح پر استعمال بہتر ہے اور اس کا رس پینے سے صحت پر بڑی حد تک حوصلہ افزا ہے ۔ تحقیق کے مطابق اس جادوئی پودے میں قدرت نے 200سے زائد ایکٹیو امائنوایسڈز، وٹامنز اور اینٹی آکسی ڈینٹس رکھے ہیں جو جلد کی خوبصورتی میں اضافے کیلئے اہم ہیں ااس کے ساتھ دل کی صحت کیلئے بہترین ہیں

ایلوویرا کے جلد کی خوبصورتی میں اضافے کیلئے پانچ فوائد بتائے گئے ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں۔فائدہ نمبر1:اس کا استعمال میک ریموور کے طور پر بہترین ہے ۔ بس ٹشو یا روئی کو تازہ رس میں ڈال کر گیلا کرے اور میک اتار دیں اس کے ساتھ چہرہ بالکل فریش ہو جائےگا

فائدہ نمبر2: تحقیق کے مطابق 90روز تک اگر اس جادوئی پودے ایلوویرا کا رس پیا جائے تو اس سے چہرے کی جھریاں غائب ہو جاتی ہیں۔

فائدہ نمبر3: ایلوویرا جیل کا استعمال آنکھوں کی اوپری بالوں یعنی بھوں کو کو اپنی جگہ پر رکھنے کیلئے بہترین ہے۔

فائدہ نمبر4: جلد پر نکلنے والے دانوں اور خارش کو ختم کرنے کے لئے اس کا مسلسل استعمال نہایت مفید ہے

اعصاب کو بے انتہا مضبوط بنانے والی ایک ایسی چیز جو نبی اکرم ﷺ کو بھی بے حد پسند تھی

نبی کریم حضرت محمد مصطفی ﷺ کھانے میں کھجور اور سبزیوں میں کدو کو بے حد پسند فرمایا کرتے تھے۔ حضرت عا ئشہؓ سے روایت ہے کہ حضورؐ کدو کے موسم میں کدو کی ترکاری کھانے میں بے حد پسند فرماتے تھے۔ یہ ترکاری خشکی کو دور کرنے والی ہے ۔

چوتھی صدی ہجری کے طبی محققین جن میں بوعلی سینا ،موسی بن خالد اور حسین بن اسحق کا نام سر فہرست ہے ان ما ہرین نے کدو کی افادیت کے بارے میں کہا کہ’’ ہم حیران ہیں کہ اس سبزی کے اتنے زیادہ فائدے ہیں‘‘۔کدو کے چھلکے کوخشک کر کے اسے جلا کر خاکستر کر لیں یہ خاکستر چاقو چھری یا تلوار کے زخموں سے جاری خون کو روکتا ہے اور حیران کن طور پر خون کے بہنے کو بند کر دیتا ہے۔یہ سالن بہت سی بیماریوں میں میں قوت بخش ثابت ہوتا ہے مثال کے طور پر اعصابی توانائی کا مظاہرہ کرنے والے احباب کے لیے نادر شے ہے موسم گرما میں اکثر بچوں کی آنکھیں دْکھنے پر آ جا تی ہیں

بخار چڑھ جاتا ہے ،چڑچڑاہٹ پیدا ہو جاتی ہے ایسی حالت سے بچنے کے لیے حفظ ما تقدم کے طور پر کدو کا چھلکا حاصل کر کے بچوں کے تالو پر گدی بنا کر رکھیں بعد میں اٹھا دیں چند دن یہ عمل کرنے سے بچے گرمی میں ہر قسم کے ہنگامی اور وبائی امراض سے محفوظ رہتے ہیں کدو کی ڈنڈی داڑہ کے نیچے رکھ کر چبائیں اگر وہ قدرے مٹھاس لیے ہوئے ہو تو کدو نہایت لذیذ ہوگا ، پھیکی ہونے کی صورت میں کدو قدرے مزیدار اور اگر کڑوی ہو تو کدو کڑوا ہو گا کڑوا کدو پیٹ میں ہوا بھر جانے کی حالت میں ڈراپس کا زبردست علاج ہے

آئلی سکن کے آئل کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ تازگی اور نکھار کے لیے زبردست گھریلو ماسک

جن لوگوں کی سکن آئلی ہوتی ہے ان کو بار بار کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔جیسے بار بار دانے نکلنا،کیل مہاسے اور پھنسیاں ہونا عام بات ہے ۔اگر آپ اپنی آئلی سکن کی اچھے طریقے سے دیکھ بھال کر یں توآپ ان ساری مشکلات سے چھٹکاراپاسکتے ہیں ۔ جس سے آپ بے حد خوبصورت ہوجائیں گے۔یہاں پرمیںآپ کے لیے دو ایسے ماسک لے کر آئی ہوں جن کے استعمال سے آپ کی سکن کا آئل آہستہ آہستہ کم ہونے کے ساتھ ساتھ آپ کے چہرے کی تازگی اور گلابی پن بھی لوٹ آئے گا ۔

ملتانی مٹی : ایک کھانے کا چمچ
دودھ : ایک کھانے کا چمچ
سرکہ : ایک کھانے کا چمچ

ترکیب اور طریقہ استعمال:
کسی برتن میں ملتانی مٹی ڈال کر اس میں دودھ اور سرکہ شامل کریں اور اچھی طرح مکس کریں۔جب یہ پیسٹ بن جائے تو اسے اپنے چہرے پر ماسک کی طرح لگائیں اور خشک ہونے تک لگا رہنے دیں ۔جب خشک ہوجائے تو اسے ٹھنڈے پانی سے دھوکر اتار لیں ۔اس کو ہفتے میں دو بار استعمال کرنے سے آپ کے چہرے کا اضافی آئل بھی کم ہوجائے گا اور چہرے پر تازگی اور نکھار بھی آجائے گی ۔

ملتانی مٹی میں زنک ،سیلکا،آئرن اور میگنیشیم پائے جاتے ہیں۔زنک آئلی سکن میں آئل پیدا کرنے والے اینڈروجن نامی مادہ کو کنٹرول کرتا ہے۔سیلکاان خلیات کو صاف کرتا ہے جو زیادہ آئل بننے کی وجہ سے بند ہوجاتے ہیں جس سے خلیات کو آکسیجن صحیح طریقے سے نہیں ملتی جس کی وجہ سے بعد میں یہ دانوں اور ایکنی کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں ۔خلیات صاف ہونے سے آئل تو صاف ہوتا ہی ہے ساتھ ساتھ خلیات کو اچھے طریقے سے آکسیجن ملتی ہے اور جلد کچھ ہی دنوں میں نکھر نے لگتی ہے ۔

میگنیشیم جلد میں سے آئل کو تیزی سے جذب کرنے میں اہم ثابت ہوتا ہے ۔دودھ میں لیکٹک ایسڈ اور وٹامن C کافی مقدار پائے جاتے ہیں ۔لیکٹک ایسڈ جلد کو سفید اور چمکدار بناتا ہے اور وٹامن C آپ کی خراب ہوئی جلد کو تیزی سے صحیح کرتا ہے۔اس کے علاوہ یہ ایک اچھا کلینزر ہونے کی وجہ سے جلد کی خلیات میں سے آئل کو مکمل طور پر صاف کر دیتا ہے۔سرکہ میں ایسڈک ایسڈ پایا جاتا ہے جو دانے اور ایکنی کے خلاف مزاحمت کرتا ہے

گڑ کے فائدے لاتعداد

گڑجسے عربی زبان میں فارلیذ،فارسی میں قندسیاہ ،انگریزی میں جیگری اوراردو میں گڑ کہتے ہیں۔یہ گنے کے رس کو پکا کر جمالیا جاتا ہے۔ قوام کو سخت بنا کر ہاتھوں سے مل کر سفوف بنا لیں تو اسے سرخ شکر بھی کہتے ہیں۔ اس کا رنگ سرخ ہوتا ہے۔ بعض دفعہ رنگ سرخی مائل سیاہ اور زرد بھی ہوتاہے اور ذائقہ شیریں ہوتا ہے۔ اس کا مزاج گرم اور دوسرے درجے میں تر ہوتا ہے۔ پرانا گڑ گرم و خشک ہوتا ہے۔

گڑ قدرتی میٹھائی کے طور پر جانا جاتا ہے۔گڑ میں کئی ایسے فائدہ مند خصوصیات ہیں جو صحت کے لیے انتہائی فائدہ مند ہیں۔گڑ ذائقہ کے ساتھ ہی صحت کا بھی خزانہ ہے۔ موسم سرما میں گڑ کی مانگ بڑھ جاتی ہے اور لوگ اسے بڑے شوق کے ساتھ کھاتے ہیں۔ یہاں ہم آپ کو گڑ کے چند اہم ترین طبی فوائد کے بارے میں آگاہ کریں گے۔

*گڑ کا استعمال اندرونی نظام کو متحرک کرکے قبض سے نجات دلاتا ہے۔ گڑ نظام انہضام کو متحرک کر دیتا ہے، اسی لیے متعدد افراد کھانے کے بعد گڑ ضرور استعمال کرتے ہیں۔
*گڑ آئرن کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے، اور گڑ کی اسی خوبی کے باعث اس کا رنگ گہرا خاکستری ہوتا ہے۔ آئرن ہمارے جسم کے لیے نہایت ضروری ہے کیوں کہ اس سے خون کی کمی نہیں ہوتی۔
*مائیکرونیوٹرنٹس انسانی جسم کی ضرورت ہوتے ہیں، جن کی وجہ سے ایک انسان متعدد نفسیاتی افعال سرانجام دیتا ہے، اور گْڑ ایسے مائیکرونیوٹرنٹس سے بھرپور ہوتا ہے۔
*کیا آپ اپنے جسم کے زہریلے (نقصان دہ) مادوں کا اخراج چاہتے ہیں تو گڑ کا استعمال کریں۔ گڑ آپ کے جگر کی صفائی کرکے پیشاب کے نظام کو مکمل طور پر درست رکھتا ہے۔
* گڑ کھانسی، آدھے سرکا درد، پیٹ کا اپھارا وغیرہ جیسی عام بیماریوں میں بھی اکسیر کا کام دیتا ہے۔
*مختلف انفیکشنز اور بیماریوں سے لڑنے کے لیے انسانی جسم قوت مدافعت کے نظام پر انحصار کرتا ہے۔ گڑ اینٹی آکسائیڈینٹس، زنک اور سلینیم سے بھرپور ہوتا ہے، جو قوت مدافعت کے نظام کو بہتر بناتا ہے۔
* گڑ کھانے سے پٹھوں، اعصاب اور خون کی Vessels کو تھکاوٹ سے راحت ملتی ہے۔
*گڑ کھانے سے بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے میں خاصی مدد ملتی ہے۔
*گڑ پیٹ کے مسائل سے نمٹنے کا ایک انتہائی آسان اور فائدہ مند علاج ہے. یہ پیٹ میں گیس بننا اور عمل انہضام فعل سے منسلک دیگر مسائل کو دور کرتا ہے۔
* موسم سرما کے دنوں میں یا موسم سرما ہونے پر گڑ کا استعمال آپ کے لیے امرت کی مانند ہے۔
*گڑ حلق اور پھیپھڑوں کے انفیکشن کے علاج میں بہت فائدہ مند ہوتا ہے۔
*گڑ مٹاپا اور پیٹ کے بڑھناجیسے امراض کوبھی روکتا ہے۔
*خاص مردانہ کمزوری میںیہ ٹانک کاکام دیتا ہے۔
* گلا خراب ہونے اورگلے میں ریشہ گرنے جیسے امراض میں بھی گڑازحدمفید ہے

ڈسپر ین والا ما سک

اگر کبھی کو ئی آپ سے سو ال کر ے کہ چہر ے کی خو بصو رتی گھر میں کیسے ممکن ہے ؟تو میرا خیا ل ہے کہ آدھی سے زیا دہ خو اتین کے دما غ میں فو ری طو ر پر کسی نہ کسی جڑی بو ٹی کا نا م آئے گا جیسے کی ایلو ویرا ۔لیکن کبھی آپ نے سو چا ہے کہ کو ئی میڈ یکل کی دو ا بھی آ پ کے حسن میں چا ر چا ند لگا سکتی ہے وہ بھی ڈاکٹر کے پا س جا ئے بغیر ؟نہیں نا !!!ایسا با لکل ممکن ہے اور حو الے سے ہما ری مدد کر تی ہے ڈسپر ین (اسپر ین)کی گو لی ۔یہ اس وجہ سے ہے کی ڈسپر ین میں بھی وہی اجزاء شا مل کئے جا تے ہیں جو کہ سیلی سا ئلک ایسڈ میں ہو تے ہیں ۔یہ آپ کی جلد کو ایکس فو لی ایٹ (مر دہ خلیہ کو اتا ر پھینکنا )کر نے میں اپنی مثا ل آپ ہیں ۔اس کے ساتھ ساتھ یہ چہر ے پر ہو نے والے دانو ں (ایکنی )کیلئےبھی مفید ہے ۔

اس میں سب سے مز ے کی با ت یہ ہے کہ آپ ڈسپر ین کا ما سک خو دگھر میں بیٹھے ہو ئے بھی تیا ر کر سکتی ہیں ۔جس کے لیے آپ کو با ہر جا نے کی ضر ورت بھی چیز یں بھی گھر میں لا ز ما مو جو د ہو ں گی ۔
ڈسپر ین کا ما سک آپ کے چہر ے کی جلد نر م و نا زک بنا تا ہے اور چہر ے پر مو جو د دانو ں کو ختم کر نے میںبھی پو را مد د کر تا ہے اس کے علا وہ آپ کے چہر ے کی سکن کو نر م و نا زک بنا دیتا ہے ۔اس کے علا وہ یہ انتہا ئی کم قیمت میں تیا ر ہو نے کے ساتھ سا تھ اکثر بیش قیمت فیشل ما سک سے ز یا دہ رز لٹ رکھتا ہے ۔
اسے آپ سکر ب کی طر ح بھی استعما ل کر سکتے ہیں اور ما سک کی طر ح بھی اور دو نو ں طر ح سے استعما ل کر نے سے اس کی ا فا دیت میں کو ئی کمی نہیں آتی ۔

اجزاء:
ڈسپر ین کی گو لیا ں : 5سے 7گو لیاں
منر ل واٹر : 30ملی لیٹر
خا لص شہد : ایک چا ئے کا چمچ

بنا نے کا طر یقہ :
کو ئی چھو ٹا سا بر تن لے کر اس میں پا نی ڈال لیں اور اس میں ڈسپر ین کی گو لیاں ڈال لیں ۔اس کو 5منٹ کے لیے پڑا رہنے دیں اور گو لیوں کی خو د سے پا نی میں مکس ہو نے دیں ۔5منٹ کے بعد جو گو لیا ں پا نی میں مکس ہو نے سے رہ گئی ہو ں انہیں بھی آپ اچھی طر ح مکس کر کے پیسٹ بنا لیں ۔اگر آپ کو لگے کہ یہ سخت پیسٹ ہے تو اس میں پا نی کی تھو ڑی سی مقد ار اور شا مل کر دیں اور اگر آپ کو لگے کہ یہ زیا دہ نر م ہے تو ایک ڈسپر ین کی گو لی اور شا مل کر دیں مطلب یہ کہ ایسا پیسٹ بن جا ئے جس سے آپ آسا نی کے سا تھ چہر ے پر ما سک لگا سکیں ۔لیکن میر ا مشو رہ یہ ہے کہ آپ اس پیسٹ کو ایسے ہی استعما ل کر یں اور اگر گو لیو ں کو تعد اد زیادہ کر نے کی ضر ورت پیش آتی ہے تو 8سے زیا دہ نہ استعما ل کر یں ۔اس کے بعد اس میں شہد شا مل کر دیں ۔

اگر آپ کی سکن اگر زیا دہ خشک ہے تو آپ شہد کی جگہ پر زیتون کا تیل بھی ڈال سکتی ہیں ۔اگر آپ کے پا س زیتو ن کا تیل نہیں ہے تو آپ اس کی جگہ جو جو با آئل اور ٹی ٹر ی بھی ڈال سکتی ہیں ۔

طر یقہ استعما ل :
آپ اس کو چہر ے ،گر دن سینے اور کمر ے پر جہا ں آپ نے استعما ل کر نی ہے لگا ئیں ۔با لکل جیسے عا م ما سک لگا یا جا تا ہے ۔اس کے بعد اسے 10 سے 15 منٹ کے لیے چھو ڑدیں ۔اس کے بعد اسے سا دہ پا نی سے سا تھ
آہستگی سے اتا ر لیں۔

یہ ما سک عو رتوں اور مر دوں دو نوں کے لیے مفید ہے ۔اسے ہفتے میں دو دفعہ استعما ل کیجئے ۔لیکن ایک با ت کا خیا ل رہے کہ ہر دفعہ آپ اسے تا زہ بنا کر استعما ل کر یں ۔
آپ کے چہر ے پر فو ری طو ر پر چمک ،تا زگی اور شا دبی آجا ئے گی اور آپ کی جلد خو شگو ارحد تک نر م ہو جا ئے گی ۔مز ید اس کا فا ئد ے یہ ہے کہ آپ کے چہر ے پر ہو نے والے بلیک ہیڈز بھی صا ف ہو جا ئیں گے ۔

نو ٹ :
کچھ لو گو ں کو ڈسپر ین سے الر جی ہو تی ہے اس لیے اس کا پہلے الر جی ٹیسٹ کیجئے اور پھر اس کو استعما ل کیجئے ۔الر جی ٹیسٹ کے لیے اپنے با زو کی نچلی جلد کے نیچے ڈسپر ین کا لیپ کیجئے اور اسے 24 گھنٹو ں کے لیے لگا رہنے دیجئے ۔اگر جلد سر خ نہیں ہو تی یا کو ئی الر جی کے نشا ن ظا ہر نہیں ہو تے تو آپ بے فکر ہو کے اسے استعما ل کر سکتی ہیں ۔

انار کھانے کے بعد یہ کام ضرور کریں اس ویڈیو میں دیکھیں

انار میں سبز چائے سے زیادہ اینٹی آکسیڈینٹس موجود ہوتے ہیں۔ اگر اس کے استعمال کو معمول بنا لیا جائے، تو یہ چھاتی، بڑی آنت، اور مثانے کے کینسر سے بھی مدافعت فراہم کرتا ہے۔ اس کے چھلکے میں الیجک ایسڈ موجود ہوتا ہے، جو جلد کے کینسر کو بڑھنے سے روکتا ہے۔ اسی لیے آنکولوجی یعنی رسولیوں کے ماہرین اپنے مریضوں کو کوٹا ہوا انار باقاعدگی سے کھانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ اناروں میں آئرن، پوٹاشیم، اور مینگنیز کی بڑی مقدار موجود ہوتی ہے،

جس کی وجہ سے یہ انسانی صحت پر بہت اچھے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ دورانِ حمل انار کا باقاعدگی سے استعمال انیمیا اور اکڑن سے محفوظ رکھتا ہے۔ ایسی کونسی چیز ہے جس کو بعد میں استعمال کرکے بری بیماریوں سے بچہ جاسکتا ہے، اس ویڈیو کو دیکھنے کے لیے اس اردو کے نیچے ویڈیو ہے اس میں مکمل تفصیلات دیکھیں اور پسند آئے تو دوسروں کے ساتھ شیئر بھی کریں

دانتوں میں کیڑے سے بچنے کے لئے آپ کو کیا کھانا چاہیے؟ معروف ڈینٹسٹ نے بہترین مشورہ دے دیا

دانتوں کو کیڑالگنے سے بچانے کے لیے ہم کئی جتن کرتے ہیں تاہم اب ایک معروف دندان ساز نے کھانے کی کچھ ایسی چیزیں بتا دی ہیں جن کے ذریعے آپ اپنے دانتوں کو کیڑے سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق سڈنی کے ڈینٹسٹ ڈاکٹر لیوس ایرلک نے بتایا ہے کہ ”سیب کا سرکہ دانتوں کی صحت کے لیے انتہائی مفید چیز ہے۔

صبح اٹھنے کے بعد سب سے پہلے اگر تھوڑا سا سیب کاسرکہ پی لیا جائے تو دانت کیڑا لگنے سے محفوظ رہتے ہیں۔اس کے علاوہ انڈا، ڈارک چاکلیٹ، سبزیوں کا آملیٹ اور سبز چائے بھی دانتوں کو کیڑا لگنے سے بچانے کے لیے بہترین غذائیں ہیں۔“ڈاکٹر لیوس کا کہنا تھا کہ ”میں خود اپنے دن کا آغاز سیب کے سرکے سے کرتا ہوں۔ اس کے بعد میں بہت ساری سبزیاں ڈال کر آملیٹ بناتا ہوں اور اس سے ناشتہ کرتا ہوں۔ دوپہر کے کھانے میں کچھ سبزیاں، تھوڑا چکن یا پروٹین کی حامل کوئی اورچیزکھاتا ہوں اور سہ پہر میں سنیک کے طور پر خشک میوہ جات اور ڈارک چاکلیٹ لیتا ہوں۔ یہ تمام چیزیں دانتوں کے ساتھ ساتھ پورے جسم کو چاک و چوبند رکھنے کے لیے انتہائی مفید ہیں۔ اس خوراک سے انسان موٹاپے سے بھی محفوظ رہتا ہے۔“

گردن کی سیاہ رنگت ایسے سفید ہو گی جیسے کبھی اس پہ سیاہی تھی ہی نہیں۔۔ بس یہ عام سا نسخہ استعمال کریں

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) گردن کا رنگ سیاہ ہونا بظاہر نہ ہی کوئی پیچیدہ مسئلہ ہے اور نہ کوئی بیماری .لیکن یہ ایک الجھن ہے جو کہ لا پرواہی کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے .مندرجہ ذیل ٹوٹکوں پر عمل کرکہ آپ انڈرآرم کی جلد پھر سے نرم و ملائم اور صاف ستھری بنا سکتے ہیں: ۱.ویکسنگ بغل کا رنگ سیاہ ہونے سے بچانے کے لئے شیونگ ریزر کا استعمال کرنا ترک کر دیں .

بال صاف کرنے کے لئے ویکس کریم کا استعمال سب سے بہتر ہوتا ہے . ویکسنگ کرنے سے غیر ضروری بال جڑ سے اکھڑ جاتے ہیں اور ان کی نشونما بھی سست ہو جاتی ہے ،کسی انفیکشن اور زخم ہونے کا خطرہ بھی نہیں ہوتا . ۲. قدرتی ڈیوڈنٹ پسینہ کی بدبو سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے ڈیوڈرنٹ اور پرفیومز کا استعمال کیا جاتا ہے جس میں الکحل کی کافی مقدار ہوتی ہے جو بغلوں کا رنگ سیاہ کرتی ہے .

اس لئے مصنوعی خوشبو کی جگہ قدرتی خوشبو کا استعمال کریں صندل کی لکڑی کا پاؤڈر اور کارن فلاور ہم مقدار لے کر بغلوں میں ٹیلکم پاؤڈر کی طرح استعمال کریں جس سے نہ صرف پسینہ جلد خشک ہو گا بلکہ بغلوں کی سیاہی بھی کم ہوگی . ۳.ایکسفولییٹ مردہ خلیوں کے باعث جلد کی رنگت سیاہی مائل ہو جاتی ہے اس لئے چہرے کی طرح بغلوں کی سیاہی کو کاٹنے کے لئے ہفتے میں دو دفعہ ایکسفولیشن ضروری ہے .

ایک چمچ دانے دار چینی میں ادھا لیموں نچوڑلیں اور بغلوں میں لگا کر دس منٹ لگا رہنے دیں ،دس منٹ بعد انگلیوں کو گیلا کر کر اسکرب ( رگڑیں )اور چینی جھاڑ دیں اور نیم گرم پانی سے غسل کر لیں . دو چمچ پسے ہوئے چاولوں میں سرکہ ڈال کر لیپ بنا کر بغلوں میں بیس منٹ تک لگائیں اور ٹھنڈے پانی سے صاف کر لیں .یہ ایکسفولییٹر ناخوش گوار بو ،جراثیم اور مردہ خلیو ں کو ختم کرتا ہے .

۴.تیل کا مساج خون کی گردش بڑھانے کے لئے چہرے اور جسم کی مالش کی جاتی ہے جس سے جلد ملائم اور رنگ صاف ہوتا ہے .اسی طرح بغلوں کی حساس جلد کو بھی موائسچرائزر کی ضرورت ہوتی ہے .نہانے کے بعد یا غیر ضروری بال صاف کرنے کے بعد بغلوں کو اچھی طرح سے صاف اور خشک کریں تاکہ نمی نہ رہے اور جراثیم پیدا نہ ہوں اور زرا سا زیتون ،چنبیلی یا ناریل کا تیل ضرور لگائیں .

۵. بیکنگ سوڈا بیکنگ سوڈ ا صرف ایکسفولییٹر ہی نہیں بلکہ بہترین ڈیوڈرنٹ بھی ہے جو پسینہ کی بو کو کم کرتا ہے .ساتھ جلد کی رنگت کو بھی صاف کرتا ہے بیکنگ سوڈ اکو پانی میں ملائیں اور بغلوں میں پانچ منٹ تک لگارہنے دیں اور ٹھنڈے پانی سے دھو لیں . ۶.وائٹننگ کریم چہرے کی رنگت صاف کرنے کے لئے خواتین مہنگی مہنگی وائٹننگ کریم استعمال کرتی ہیں لیکن بغلوں کی سیاہی دور کرنے کے لئے کم پیسوں میں وائٹننگ ماسک تیار کیا جا سکتا ہے .

چار چمچے بیسن ،ایک چٹکی ہلدی ،ایک چمچ بیکنگ سوڈا اور ایک چمچ خشک پاؤڈر ملا کر باتل میں ڈال کر رکھ لیں ، نہانے سے پہلے ایک چمچ ڈرائی مکسچر میں لیموں کے قطرے ملائیں اور پانی سے گھول کر مکسچر بغلوں میں لگائیں اور آدھے گھنٹے بعد مساج کرتے ہوئے صاف کر لیں اورٹھنڈے پانی سے صاف کر لیں . ۷.زعفران زعفران اگرچہ کافی مہنگا ہوتا ہے

لیکن خواتین جہاں مہنگے مہنگے پروڈکٹس استعمال کرتی ہیں وہاں انھیں زرا سی بچت کر کے زعفران گھر میں رکھنا چاہئے .اگر بغلوں کا رنگ زیادہ سیاہ ہو اور سیاہی جلد دور کرنی ہو تو ایک چٹکی زعفران نیم گرم پانی میں بھگوکر بغلوں میں لگائیں اور رات بھر لگا نے کے بعد صبح نہا لیں .چند دفعہ کے استعمال سے واضح تبدیلی آئے گی . ۸.آلو آلو میں ایسڈک خصوصیات ہونے کے باعث رنگت کو صاف کرتا ہے .

رات میں آلو کا ٹکڑا بغلوں پر رگڑیں اور صبح صاف کر لیں . ۹.کھیرا کھیرے کا پانی پسینہ اور پسینہ سے پیدا ہونے والی بو کو کم کرتا ہے اور بغل کی سیاہی بھی دور کرتا ہے . ۰۱.کینو ایک کلو پانی میں کینو کے چھلکے ڈال کر ابال لیں اور اس پانی کو نہانے کے پانی میں شامل کر لیں اس پانی سے نہ صرف بھینی بھینی خوشبو آئے گی بلکہ جلد کی رنگت بھی صاف ہو گی

آنکھ پر اس طرح کا دانہ نکل آئے تو کبھی غلطی سے بھی اسے پھوڑیں مت، کیسے نجات حاصل کر سکتے ہیں؟ جانئے وہ بات جو آپ کو بہت بڑی مشکل سے بچا سکتی ہے

آنکھ پر پلکوں کے قریب نمودار ہونے والا سرخ رنگ کا دانہ بہت پریشانی کا سبب بنتاہے اور جی بہت چاہتا ہے کہ اسے دبا کر پھوڑ ڈالیں، مگر یہ غلطی بھول کر بھی نا کریں۔ لیزر آئی سرجن ڈاکٹر منگ وانگ کا کہنا ہے کہ پلکوں کی جڑوں میں خشکی اور آلودگی جمع رہنے کی وجہ سے ان میں بیکٹیریا پیدا ہوجاتے ہیں جن کے باعث لال رنگ کا دانہ نمودار ہو جاتا ہے۔

بنیادی طور پر یہ دانہ ’میبولین گلینڈز‘ میں بیکٹیریا داخل ہونے سے سے نمودار ہوتا ہے۔ ڈاکٹر منگ وانگ بتاتے ہیں کہ اگر آپ کی آنکھ پر یہ دانہ نکل آئے تواس کے ساتھ ہرگز چھیڑ چھاڑ مت کریں۔ایسی صورت میں ماہر ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔ ڈاکٹر اس کیلئے عموماً اینٹی بائیوٹک ادویات تجویز کرتے ہیں۔ اگر آپ ان ادویات کا استعمال شروع کرتے ہیں تو ڈاکٹر کی ہدایات کے مطابق علاج مکمل کریں کیونکہ اسے درمیان میں چھوڑنے سے مسئلہ زیادہ سنگین ہوسکتا ہے۔ دانے کے جلد خاتمے کے لئے ادویات کے استعمال کے ساتھ آپ اسے وقتاً فوقتاً نیم گرم کپڑے سے نرمی کے ساتھ دباسکتے ہیں۔ آپ ایسا دن میں کئی بار کرسکتے ہیں۔

عام طور پر یہ مسئلہ ادویات سے باآسانی حل ہوجاتاہے لیکن اگر علاج نہ کروایا جائے تو دانہ سخت ہوجاتا ہے اور پھر اس کے خاتمے کے لئے آپریشن کی ضرورت بھی پڑسکتی ہے۔ اس دانے کو پھوڑنے سے مکمل گریز کرنا اس لئے ضروری ہے کہ ایسا کرنے سے انفیکشن آپ کی آنکھ تک پھیل سکتاہے۔ بعض ایسے کیس بھی دیکھے گئے ہیں کہ یہ انفیکشن آنکھ کے راستے دماغ تک پہنچ گیا۔ یہ صورتحال انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے لہٰذا احتیاط لازم ہے۔

سیب کو مختلف غذاؤں کے ساتھ ملا کر کھانے کے حیرت انگیز فوائد سامنے آگۓ

ماہرین صحت سیب کو نہ صرف ایک بہترین پھل مانتے آۓ ہیں اس کے ساتھ اس کا روزانہ استعمال انسان کو کئی بیماریوں سے بھی محفوظ رکھتا ہے جس کے سبب انسان ڈاکٹر کے پاس جانے سے بچ جاتا ہے ۔ اس میں فولاد کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے یہ کمزوری کا خاتمہ کرتا ہے۔ اور جسم میں خون کی کمی کو بھی پورا کرتا ہے ۔

مگر اب جدید تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ سیب کو مختلف غذاؤں کے ساتھ ملا کر کھانے کی صورت میں نہ صرف اس کے اثرات میں تبدیلی واقع ہوتی ہے۔ بلکہ وہ زیادہ مفید بھی ثابت ہوتا ہے ۔

سبز چاۓ اور سیب

ان دونوں کو ملا کر استعمال کرنے کا سب سے پہلا فائدہ تو یہ ہوتا ہے کہ اس سے خون میں نائٹرک ایسڈ کی مقدار میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ جو کہ شریانوں کے پھیلاؤ میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ سیب اور سبز چاۓ میں موجود اینٹی آکسئڈنٹس ایسے خلیات کو بننے سے روکتے ہیں جو کہ چکنائی کو شریانوں میں جما دیتے ہیں۔

ٹماٹر اور سیب

سائنسی تحقیقات کے مطابق عمر کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ پٹھوں کی کمزوری کا عارضہ عموما لاحق ہونے لگتا ہے۔ اس کمزوری کو دور کرنے کے لۓ سیب کے چھلکے اور سبز ٹماٹر انتہائی مفید ہوتے ہیں۔ ان دونوں اجزا کے ملا کر استعمال کرنے سے ایک ایسا کیمیکل پیدا ہوتا ہے جو نہ صرف پٹھوں کی اس کمزوری کا خاتمہ کرتا ہے بلکہ آئندہ بھی اس کو پیدا ہونے سے روکتا ہے۔ اس کو لگاتار دو مہینے تک دن میں ایک بار استعمال کر کے فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے

مالٹے اور سیب

مالٹے اور سیب کا مشترکہ استعمال ذہنی صحت پر حیران کن اثرات مرتب کرتا ہے۔ ایک جانب تو اس سے دماغی خلیات کی نشونما میں مدد ملتی ہے۔ اور دوسری جانب اس سے یاداشت بھی بہتر ہوتی ہے۔ کمزور یاداشت کے مریضوں کے لۓ یہ غذا ایک ٹانک کا کام کرتی ہے۔

کیلا اور سیب

روزانہ ایک کیلا اور ایک سیب ملا کر کھانے سے دل کے دورے اور فالج سے مرنے کے خطرات میں پچاس فی صد تک کمی واقع ہو سکتی ہے۔ ان دونوں پھلوں میں ایسے اجزا پاۓ جاتے ہیں جو کہ نہ صرف دوران خون کو بہتر بناتے ہیں۔ بلکہ اس کے ساتھ ساتھ شریانوں میں موجود رکاوٹوں کو بھی دور کرتے ہیں۔

چاکلیٹ اور سیب

چاکلیٹ اور سیب دونوں میں ایسے کیمیکل پاۓ جاتے ہیں جو کہ شریانوں میں خون کے جمنے کے عمل کا خاتمہ کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ ان دونوں کو ملا کر کھانے کی صورت میں خون کی شریانوں میں خون کا بہاؤ بہتر ہوتا ہے۔

پاکستانیوں کی خوش نصیبی ہے کہ ہمارے ملک میں دنیا کی بہترین اقسام کے سیب اگاۓ جاتے ہیں۔ اور اس کی افراط کے سبب امیر و غریب اس پھل سے فیض حاصل کر سکتے ہیں۔ لہذا بڑی بڑی بیماریوں میں مبتلا ہونے سے قبل ہی اس پھل کے استعمال کو اپنی عادت میں شامل کر کے بڑی بڑی بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے۔