کم عمر افراد دل کےمرض میں مبتلا ہورہےہیں ،طبی ماہرین

اسلام آباد(نیوز ڈیسک )ماہرین امراض قلب کا کہنا ہے کہ نا مناسب طرز زندگی ، ورزش اور غذاکی طرف عدم توجہ کے باعث کم عمر افراد میں دل کےامراض تیزی سے پھیل رہےہیں۔
لاہور میں 45 ویں سالانہ ہارٹ کانفرنس کا آغاز ہوگیا، پہلے روز ملکی اورغیر ملکی طبی ماہرین نے دل کے مرض کی علامات ،ان سے بچاو اور علاج پر روشنی ڈالی۔ڈاکٹر اظہر فاروقی کا کہنا تھا کہ گذشتہ سالوں کی نسبت دل کا مرض زیادہ پھیل رہا ہے،35 سال کی عمر تک کے لوگوں نے ورزش چھوڑ دی ہے اور مرغن غذاوں کا استعمال زیادہ کرتے ہیں جو خطرے کی گھنٹی ہے ،ڈاکٹر ندیم حیات ملک کا کہنا تھا کہ کانفرنس میں شریک طبی ماہرین جدید انجیو پلاسٹی بھی کرکے دکھائیں گے۔

دوران پرواز مسافر نے کھڑکی سے باہر دیکھا تو ہوائی جہاز کا انجن ٹوٹا ہوا نظر آگیا، لیکن پھر اس نے گھبرانے کی بجائے ایسا کام کر ڈالا کہ آپ تصور بھی نہیں کرسکتے

اڑتے ہوائی جہاز میں معمولی سی خرابی بھی کسی بڑے سانحے کا سبب بن سکتی ہے لیکن اگر اس کا انجن ہی ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بکھرنے لگے تو اس سے زیادہ خوفناک بات کیا ہو سکتی ہے۔ امریکا کی یونائیٹڈ ائرلائن کے ایک طیارے کے ساتھ ہزاروں فٹ کی بلندی پر یہی واقعہ پیش آ گیا، لیکن حیرت کی بات ہے کہ جب ایک مسافر کی نظر ٹوٹتے ہوئے انجن پر پڑی تو اس نے خوفزدہ ہونے کی بجائے اس پر ایک مزاحیہ ٹویٹ کر ڈالی۔

دی مرر کے مطابق یونائیٹڈ ائیرلائنز کی پرواز 1175 کو سنگین ایمرجنسی کے باعث ہونولولو ائیرپورٹ پر لینڈنگ کی۔ یہ پرواز سان فرانسسکو سے ہوائی کے لئے روانہ ہوئی تھی۔ طیارے میں بیٹھے مسافر ایرک ہڈاڈ نے انجن کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی تصاویر سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹویٹر پر پوسٹ کیں۔ ان تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ دائیں طرف کے انجن کا اوپری خول پوری طرح اُڑ کر الگ ہوگیا تھا

اور انجن کے اندرونی حصے واضح نظر آرہے تھے۔ایرک، جو کہ ٹیکنالوجی کمپنی گوگل میں انجینئر کے طور پر کام کرتے ہیں، اس خطرناک صورتحال میں پریشان ہونے کی بجائے اپنی حس ظرافت کا مظاہرہ کرتے نظر آئے۔ ایک تصویر میں وہ ایک فلائیٹ سیفٹی مینول پکڑے ہوئے نظر آتے ہیں اور ساتھ لکھا ہے ”اس مینول میں مجھے ایسی صورتحال کے لئے کوئی رہنمائی نظر نہیں آرہی۔“

خوش قسمتی سے یہ طیارہ ہونولولو ائیرپورٹ پر ایمرجنسی لینڈنگ کرنے میں کامیاب ہوگیا اور اس میں سوار مسافر اور عملے کے ارکان محفوظ رہے۔ ہوائی ڈیپارٹمنٹ آف ٹرانسپورٹیشن اور ائیرکرافٹ ریسکیو ڈیپارٹمنٹ اس واقعے کی تحقیقات کررہے ہیں۔

”آﺅ اور کھل کر یہ کام کرو کیونکہ۔۔۔“ دنیا کی معروف ترین فحش ویب سائٹ نے ویلنٹائن ڈے پر شرمناک ترین اعلان کر دیا، ایسا کام کر دیا کہ تمام کنوارے لوگ دھڑا دھڑ ان کی ویب سائٹ پہنچنے لگے

آج دنیا بھر کے کئی ممالک میں ویلنٹائن ڈے منایا جا رہا ہے اور محبت کرنے والے افراد تحفے تحائف کے ذریعے ایک دوسرے سے متعلق اپنے جذبات کا اظہار کرنے میں مصروف ہیں لیکن ایسے نوجوانوں کی بھی کمی نہیں جو ’اکیلے‘ ہونے کے باعث اس دن خاصے مایوس اور افسردہ رہتے ہیں۔دنیا کی معروف ترین فحش ویب سائٹ نے ایسے ہی کنوارے نوجوانوں کیلئے انٹرٹینمنٹ کے نام پر انتہائی فحش ترین اعلان کر دیا ہے

”آﺅ اور کھل کر یہ کام کرو کیونکہ۔۔۔“ دنیا کی معروف ترین فحش ویب سائٹ نے ویلنٹائن ڈے پر شرمناک ترین اعلان کر دیا، ایسا کام کر دیا کہ تمام کنوارے لوگ دھڑا دھڑ ان کی ویب سائٹ پہنچنے لگے

جس کے باعث سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا ہے۔ ویب سائٹ کے اعلان کے مطابق 14 فروری کو دنیا بھر سے ان کی ویب سائٹ پر آنے والے افراد وہ فحش مواد بھی بالکل مفت دیکھ سکتے ہیں جس کیلئے عام دنوں میں پیسے ادا کرنا پڑتے ہیں۔ویب سائٹ کے اعلان کے مطابق دنیا بھر کے تمام ممالک کے افراد 24 گھنٹوں کے دوران بغیر کسی پیسے کے ویب سائٹ کے تمام کونے کھدرے چھان سکتے ہیں۔ اس اعلان کے بعد غلیظ ویڈیوز دیکھنے والے افراد تو خوش دکھائی دے رہے ہیں مگر دیگر صارفین نے اس پر غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔

گاﺅں والوں نے 20 فٹ لمبا سانپ پکڑلیا، لیکن پھر اس کے ساتھ کیا کیا؟ سانپ کے ساتھ ایسی حرکت کرتے آپ نے کبھی کسی کو نہ دیکھا ہوگا

سانپ کو دیکھ کر خوف سے کانپتے اور سرپٹ دوڑتے لوگ تو آپ نے دیکھے ہوں گے لیکن اسے پکڑ کر کھا جانے والے یقیناً کبھی نہیں دیکھے ہوں گے۔ یہ عجیب و غریب قوم مشہور جزیرے بورنیو پر آباد ہے جن کے لئے سانپ کا گوشت بہت ہی خاص ڈش کی حیثیت رکھتا ہے۔ گزشتہ دنوں اس جزیرے سے بہت بڑے اژدھے کے پکڑے جانے کی ویڈیو بھی سامنے آئی ہے،

لیکن پکڑے جانے کے بعد اس اژدھے کے ساتھ جو سلوک ہوا اسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔مقامی میڈیا کے مطابق 20 فٹ لمبی مادہ اژدھا اور ایک چھوٹا سانپ درخت کے سوکھے تنے میں گھس کر ملاپ کررہے تھے کہ شکار کی تلاش میں نکلنے والے جنگلیوں کی ان پر نظر پڑگئی۔ جنگلیوں کا کہنا تھا کہ ہفتے کے روز وہ شکار کی تلاش میں قریبی جنگل میں نکلے ہوئے تھے کہ انہیں ایک کھوکھلے تنے کے اندر یہ دونوں سانپ ایک دوسرے کے ساتھ گتھم گتھا نظر آگئے۔

انہوں نے بڑے اژدھے کو دم سے پکڑ کر باہر کھینچنا شروع کیا اور خاصی مشقت کے بعد دونوں سانپوں کو باہر نکال لیا۔ اس کے بعد یہ جنگلی جشن مناتے ہوئے اس اژدھے کو اپنے قبیلے میں لے گئے جہاں دعوت کی تیاریاں شروع ہو گئیں۔ مقامی روایات کے مطابق سانپ کو یا تو ثابت حالت میں کوئلوں پر بھونا جاتا ہے یا دوسری صورت میں اس کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرکے سبزی کے ساتھ پکایا جاتا ہے اور پھر چاولوں کے ساتھ کھایا جاتاہے۔ اس بدقسمت اژدھے کے ٹکڑے کر کے اسے پکایا گیا اور پھر سارے قبیلے نے مل کر یہ دعوت اڑائی۔

اس موقع پر 60 سال شخص تینسونگ اوجانگ نے فخریہ طور پر بتایا کہ سب سے پہلے اژدھے پر اسی کی نظر پڑی اور اس نے اپنے ساتھیوں کو اس کے متعلق بتایا تھا۔ تینسونگ کا کہناتھا کہ انہوں نے بڑی مشکل سے اس اژدھے کو درخت کے تنے سے کھینچ کر باہر نکالا اور اسے اپنے گاﺅں تک لے کر آئے۔ قبیلے کے لوگوں نے اتنے بڑے اژدھے کی آمد پر بے حد خوشی کا اظہار کیا اور ان کے ہاں جشن کا سماں تھا۔

افغانستان کا وہ علاقہ جہاں رہنے والوں کو ملک میں جاری جنگ کے بارے میں معلوم ہی نہیں

اتنی سادگی اور دنیا سے لاعلمی بھی دیکھنے کو نہیں ملتی شاید ہی دنیا میں کوئی شخص ایسا ہو جو افغانستان میں طالبان کی حکمرانی سے لاعلم ہو اور پھر افغانستان پر امریکہ کا حملہ،جس میں استعمال کیے گئے بارود کی بو دنیا کے کونے کونے میں پہنچ رہی ہے۔ دنیا میں کون ہو گا جو اس حملے کے بارے میں نہ جانتا ہو، مگر آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ خود افغانستان ہی میں ایک ایسی جگہ موجود ہے

جہاں کے اکثر باسی طالبان اور امریکہ کے متعلق کچھ نہیں جانتے۔ انہیں قطعاً علم نہیں کہ کبھی افغانستان میں طالبان کی حکومت آئی تھی اور پھر امریکہ نے حملہ کیا تھا اور ان کے ملک میں جنگ ہوئی تھی۔ اس علاقے کا نام واخان ہے جو دنیا میں واخان کوریڈور کے نام سے مشہور ہے۔یہ علاقہ پاکستان اور تاجکستان کے درمیان سطح سمندر سے 4500میٹر کی بلندی پر ایک تنگ پٹی کی صورت میں موجود ہے جو بے آب و گیاہ، چٹیل میدان اور پہاڑوں پر مشتمل ہے اور یہاں لگ بھگ 12ہزار لوگ آباد ہیں۔

برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق اگست 2016ءمیں ایک فرانسیسی فوٹوگرافر ایرک لیفورگ نے اس علاقے کا دورہ کیا اور تصاویر بنا کر دنیا کو اس علاقے کے لوگوں اور ان کے طرزِ بودوباش سے روشناس کرایا ہے۔ یہاں کے لوگ انتہائی سادہ زندگی گزارتے ہیں۔ پہاڑی بکریاں اور جنگلی گائے پالتے ہیں اورزیادہ تر ان کے دودھ اور گوشت پر پر گزراوقات کرتے ہیں۔

ان کے گھر انتہائی سادہ اور مخصوص روایتی طرز تعمیر کے عکاس ہیں۔ گھروں کی تعمیر پتھر اور پلستر وغیرہ سے کی جاتی ہے اور تعمیر میں مذہبی پہلو کو بھی بالخصوص مدنظر رکھا جاتا ہے۔ یہاں گھر کے ہر کمرے کی چھت پانچ ستونوں پر کھڑی کی جاتی ہے جو اسلام کے پانچ ارکان کلمہ طیبہ، نماز، روزہ، حج، زکوٰةکی عکاسی کرتے ہیں اور چھت میں روشنی کے حصول کے لیے ایک سوراخ رکھا جاتا ہے

جسے مقامی زبان میں ”چورخونہ“کہتے ہیں۔ یہاں کے لوگ بیرونی دنیا سے مکمل طور پر قطع تعلقی کی زندگی گزار رہے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ ان کی نسل 2ہزار سال سے واخان کے پہاڑوں میں آباد ہے۔نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کیجئیے

ڈاکٹر خرم کا خشک، بے جان اور دو موئی بالوں کے لئے نسخہ

بالوں کا روکھا پن اور بالوں کا دو منہ ہوجانا split ends دور کرنے کا طریقہ

خشک اور روکھے بالوں کے لئے ٹانک
کیسٹر آئل ۔3 کھانے کے چمچ
گیلیسرین ۔ 2 کھانے کے چمچ
مارجرین ۔ 1 چائے کا چمچ
ناریل کا تیل ۔ 1 چائے کا چمچ
پانی ۔ آدھا کپ۔
بےبی شیمپو ۔ دو چائے کا چمچ
سرکہ ۔ دو چائے کے چمچ
لینولن ۔ 1 چائےکا چمچ

طریقہ:
تمام چیزو ں کو اچھی طرح مکس کرنے کے بعد بالوں میں لگائیں اور 40 منٹ بعد بال دھولیں ۔ بالوں کا روکھا پن ختم ہو جائےگا اور بال نرم و ملائم ہو جائیں گے

بالوں کے لئے شیمپو
جو کا آٹا۔ آدھا کلو
نیم کے خشک پتے ۔ 2 کپ
شیکا کائی پاؤڈر۔ آدھا کلو
صندل پاؤڈر ۔ 200 گرام

طریقہ:
تمام چیزوں کو حسب ضرورت پانی میں مکس کر کے شیمٌپو بنا لیں اس سے پھر اپنے بالوں کو اچھی طرح دھو لیں

بالوں کا دو منہ ہوجانا
روز میری کا تیل ۔2 چائے کے چمچ
بیسن ۔ 1 چائے کا چمچ
فل کریم دہی ۔ 1 چائے کا چمچ
انڈہ ۔ 1 عدد
ناریل کا تیل ۔ زیادہ سا ۔

طریقہ:
تمام اشیاء کو مکس کرکے بالوں میں دو گھنٹوں کے لئے لگالیں ۔ دو منہ بال ختم ہو جائیں گے اور بال سیدھے اور چمکدار ہو جائیں گے ہفتہ میں صرف دو بار اس کا استعمال کریں

جسم کے مختلف حصوں پر مسوں اور موہکوں کی وجہ سے خوبصورتی میں زوال جڑ سے چھٹکارا پانے کا آسان ترین ٹوٹکا

جسم کے مختلف حصوں پر مسوں اور موہکوں کی وجہ سے خوبصورتی میں زوال جڑ سے چھٹکارا پانے کا آسان ترین ٹوٹکا

کیا آپ کے جسم پر مسے (اسکن ٹیگ) ہیں اور آپ ان سے پریشان ہیں تو اب پریشانی کی کوئی بات نہیں کیونکہ آپ گھر بیٹھے ان سے باآسانی جان چھڑا سکتے ہیں اور اس کے لیے ڈاکٹرز کے پاس جانے کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی۔

عمومی طور پر مسے جسم کے کسی بھی حصے پر نکل آتے ہیں لیکن عموما گردن اور اطراف میں پائے جاتے ہیں جبکہ زیادہ تر حاملہ خواتین یا درمیانی عمر کی عورتیں اس کا شکار ہوتی ہیں لیکن اب تک کسی بھی تحقیق سے مسے نکلنے کی وجوہات ثابت نہیں ہو سکیں۔

مسوں کا صحت پر کوئی مضر اثر نہیں پڑتا البتہ ان کی جسم پر موجودگی دکھنے میں بُری لگتی ہے۔ بعض اوقات لوگ مسوں کو سرجری کے ذریعے بھاری رقم ادا کر کے ختم کرواتے ہیں لیکن حیران کن طور پر انتہائی آسان گھریلو نسخوں کے ذریعے ان سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے۔

بیکنگ سوڈا اور کیسٹر آئل

ویسے تو مسوں کو ختم کرنے کے بہت سے طریقے ہیں لیکن جسم کے کسی بھی حصے سے مسے کو نکالنے کا بہترین طریقہ بیکنگ سوڈا (کھانے کا میٹھا سوڈا) اور کیسٹر آئل کا پیسٹ ہے۔ دو چمچ میٹھے سوڈے میں ایک چمچ کیسٹر آئل شامل کر کے اس مرکب کو مسے پر لگائیں اس عمل کو روزانہ دو سے تین بار دہرائیں اور اس وقت تک دہراتے رہیں جب تک مسہ خود ہی ختم نہ ہو جائے۔

ناخن پالش

ناخن پالش کے ذریعے بھی مسوں کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ کوشش کریں کہ بغیر رنگ والی ناخن پالش مل جائے، اگر دستیاب نہ تو کسی بھی رنگ والی ناخن پالش کو مسوں پر دن میں کم از کم 3 بار لگائیں۔ اس عمل کو 2 ہفتے تک جاری رکھیں، اگر مسے کا سائز تلِ (مول) جتنا ہو تو اس کے خاتمے میں ایک مہینہ بھی لگ سکتا ہے۔

باندھنا

مسے کو ختم کرنے کا ایک آسان طریقہ دھاگے کا استعمال بھی ہے۔ مسے کو دھاگے کے ذریعے باندھنے سے اس کی نشونما رُک جاتی ہے اور سائز نہیں بڑھتا۔ مسے کو ایک ہفتے تک دھاگے سے باندھنے سے اس کا خاتمہ ہو سکتا ہے لیکن اگر ایسا نہ ہو تو احتیاطاً دھاگے کا استعمال نہ کریں کیونکہ ممکنہ طور پر مسہ میں درد اور سوجن ہو سکتی ہے۔

گھوڑے کی دم کا بال

یہ ایک قدیم نسخہ ہے۔ کسی کوچوان سے گھوڑے کا بال لے لیجئے اور اسے مسے کے گرد باندھئے۔ کہتے ہیں کہ اس سے چند روز میں مسہ جھڑ کر ختم ہوجاتا ہے۔

چہرے کو جھریوں اور چھائیوں سے پاک بنانے کیلئے مرد و خواتین کیلئے زبردست نسخہ

جوان رہنے کے لئے چہرے کی شادابی اور تازگی بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ لیکن چہرے سے جُھریوں کاخاتمہ آپ کو بالکل جوان اور جازب نظر رکھتا ہے۔ خواتین اور آج کل مردوں کو بھی یہ مسئلہ بہت زیادہ پیش آرہا ہے۔ چہرے پر جُھریوں کے نمودار ہونے کی بہت سی وجوہات ہیں۔ جن میں زیادہ تر بازاری آئلی چیزوں کا کثرت سے استعمال کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وٹامن سی اور ای کی کمی کی وجہ سے یہ جُھریاں نمودار ہوتی ہیں۔ ناک کے اوپر چھائیاں بعض اوقات کو شش کے باوجود ختم نہیں ہوتی ہیں۔ یہ نسخہ بہت بہترین ہے۔

اجزاء:
وٹامن ای : دوکیپسول
دہی : دو چائے کے چمچ
شہد : آدھا چائے کاچمچ
لیموں کا رس : آدھا چائے کا چمچ

ترکیب اور طریقہ استعمال:
وٹامن ای کے دو کیپسول کو ایک باؤل میں کھول کر ڈال لیں پھر باقی اجزاء کو اس میں اچھی طرح مکس کر لیں۔ اس پیسٹ کو دس منٹ تک چہرے پرلگائیں اور پھر تازہ پانی سے دھولیں۔ہفتے میں 3 بار اس نسخے کا استعمال کریں ۔ 4ہفتوں کے استعمال سے چہرے کی جھریاں اور چھائیاں ختم ہو جائے گی اور آپ کا چہرہ چھائیوں ،جھریوں سے پاک ہونے کے ساتھ ساتھ نکھر بھی جائے گا۔

چہرے کے عام مسائل میں سے چھائیوں کا مسئلہ بہت بڑا ہے۔ بعض اوقات چہرے کی چھائیاں ختم ہو جاتی ہیں لیکن ناک سے ان کے نشان نہیں مٹتے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ گہرے ہوتے ہیں۔ جگر کی بیماری میں خواتین کے چہرے اور ناک پرپڑنے والی چھائیاں کبھی بھی ختم نہیں ہوتی ہیں۔ دراصل یہ چھائیاں ہارمونز پرابلم کی وجہ سے بھی پڑنا شروع ہو جاتی ہیں۔

ایسی خواتین جن کے چہرے پر بچے کی پیدائش کے بعد جُھریاں اور داغ دھبے بڑھ گے ہوں ان کو چاہیے کہ وہ روزانہ ناریل کا تیل ہاتھوں پر لگا کر اچھی طرح سارے چہرے کا ہلکا ہلکا مساج کریں اور مساج ہمیشہ رات کو سونے سے پہلے کریں۔ تاکہ چہرے سے جُھریاں جلد از جلد ختم ہو جائیں کیونکہ مساج سے خون کی گردش تیزہوتی ہے اور ہمارے چہرے کے ٹشوز بھی ٹائٹ رہتے ہیں اور ڈھیلا پن نہیں آتا جس سے جِلد جوان نظر آتی ہے۔

کلونجی کا استعمال سنت نبویﷺ !! کلونجی سے گھر بیٹھے تمام پوشیدہ امراض اور بیماروں سے نجات حاصل کریں

کلونجی کے بے شمار فوائد کے بارے میں تو سب ہی جانتے ہیں، کلونجی میں بے شمار بیماریوں سےنجات کی قوت ہے، کلونجی کو ادویات کے علاوہ کھانے اور اچار وغیرہ میں بھی استعمال کیا جاتا ہے. غرض یہ کہ کلونجی کھانے میں ذائقہ بھی پیدا کرتی ہے اور سینکڑوں بیماریوں میں شفا بھی ہے.

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے“کلونجی استعمال کیا کرو کیونکہ اس میں موت کے سوا ہر بیماری کے لئے شفا ہے”.حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آج سے چودہ سو سال قبل جو ارشادات فرمائے، طب و سائنس آج اس کی تصدیق کررہے ہیں.طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کلونجی کی افادیت کے بارے میں جتنی بھی ریسرچ کی گئی ہے اب تک اس کے تمام تر فوائد کا پتا نہیں چلایا جا سکا ہے،

حکمت چین ہو یا طب یونان، جڑی بوٹیوں کا استعمال جدید دور میں بھی مفید مانا جاتا ہےکلونجی کی یہ ایک اہم خاصیت ہے کہ یہ گرم اور سرد دونوں طرح کے امراض میں مفید ہے، جب کہ اس کی اپنی تاثیر گرم ہے اور سردی سے ہونے والے تمام امراض میں مفید ہے.

کلونجی کے بے شمار فوائد کے بارے میں تو سب ہی جانتے ہیں، کلونجی میں بے شمار بیماریوں سےنجات کی قوت ہے، کلونجی کو ادویات کے علاوہ کھانے اور اچار وغیرہ میں بھی استعمال کیا جاتا ہے. غرض یہ کہ کلونجی کھانے میں ذائقہ بھی پیدا کرتی ہے اور سینکڑوں بیماریوں میں شفا بھی ہے.

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے“کلونجی استعمال کیا کرو کیونکہ اس میں موت کے سوا ہر بیماری کے لئے شفا ہے”.حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آج سے چودہ سو سال قبل جو ارشادات فرمائے، طب و سائنس آج اس کی تصدیق کررہے ہیں.طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کلونجی کی افادیت کے بارے میں جتنی بھی ریسرچ کی گئی ہے اب تک اس کے تمام تر فوائد کا پتا نہیں چلایا جا سکا ہے،

حکمت چین ہو یا طب یونان، جڑی بوٹیوں کا استعمال جدید دور میں بھی مفید مانا جاتا ہےکلونجی کی یہ ایک اہم خاصیت ہے کہ یہ گرم اور سرد دونوں طرح کے امراض میں مفید ہے، جب کہ اس کی اپنی تاثیر گرم ہے اور سردی سے ہونے والے تمام امراض میں مفید ہے.

نظام ہضم کیلئے مفید

‫کلونجی نظام ہضم کیلئے مفید‬‎

کلونجی نظام ہضم کی اصلاح کے لئے اکسیر کا درجہ رکھتی ہے. ریاح، گیس اور بد ہضمی میں اس سے بہت فائدہ ہوتا ہے. وہ لوگ جن کو کھانے کے بعد پیٹ میں بھاری پن، گیس یا ریاح بھر جانے اور اپھارے کی شکایت محسوس ہوتی ہو، کلونجی کا سفوف تین گرام کھانے کے بعد استعمال کریں تو نہ صرف یہ شکایت جاتی رہے گی بلکہ معدے کی اصلاح بھی ہوگی.

سانس اور دمے کی تکلیف دور کرنے کیلئے

کلونجی کے بے شمار فوائد کے بارے میں تو سب ہی جانتے ہیں، کلونجی میں بے شمار بیماریوں سےنجات کی قوت ہے، کلونجی کو ادویات کے علاوہ کھانے اور اچار وغیرہ میں بھی استعمال کیا جاتا ہے. غرض یہ کہ کلونجی کھانے میں ذائقہ بھی پیدا کرتی ہے اور سینکڑوں بیماریوں میں شفا بھی ہے.

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے“کلونجی استعمال کیا کرو کیونکہ اس میں موت کے سوا ہر بیماری کے لئے شفا ہے”.حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آج سے چودہ سو سال قبل جو ارشادات فرمائے، طب و سائنس آج اس کی تصدیق کررہے ہیں.طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کلونجی کی افادیت کے بارے میں جتنی بھی ریسرچ کی گئی ہے اب تک اس کے تمام تر فوائد کا پتا نہیں چلایا جا سکا ہے،

حکمت چین ہو یا طب یونان، جڑی بوٹیوں کا استعمال جدید دور میں بھی مفید مانا جاتا ہےکلونجی کی یہ ایک اہم خاصیت ہے کہ یہ گرم اور سرد دونوں طرح کے امراض میں مفید ہے، جب کہ اس کی اپنی تاثیر گرم ہے اور سردی سے ہونے والے تمام امراض میں مفید ہے.

نظام ہضم کیلئے مفید

‫کلونجی نظام ہضم کیلئے مفید‬‎

کلونجی نظام ہضم کی اصلاح کے لئے اکسیر کا درجہ رکھتی ہے. ریاح، گیس اور بد ہضمی میں اس سے بہت فائدہ ہوتا ہے. وہ لوگ جن کو کھانے کے بعد پیٹ میں بھاری پن، گیس یا ریاح بھر جانے اور اپھارے کی شکایت محسوس ہوتی ہو، کلونجی کا سفوف تین گرام کھانے کے بعد استعمال کریں تو نہ صرف یہ شکایت جاتی رہے گی بلکہ معدے کی اصلاح بھی ہوگی.

سانس اور دمے کی تکلیف دور کرنے کیلئے

‫کلونجی سانس اور دمے کی تکلیف دور کرنے کیلئے‬‎

سانس کی تکلیف، دمے کا مرض، گردے اور جگر کی خرابی ہو یا دوران خون میں نقص کے سبب یا پھر دل کے عارضے ہوں، ان تمام بیماریوں کا موثرعلاج چُٹکی بھر کلونجی کے بیج یا اس کے خالص تیل کے چند قطروں کا مسلسل استعمال ہے.جسم کے مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے کے لئے کلونجی سے زیادہ موثر کوئی دوسری چیز نہیں، یہ درد کُش بھی ہے اور جسم کے کس بھی حصے میں ہونے والی سوزش میں بہت فائدہ مند بھی ثابت ہوتی ہے.

سرطان کیلئے مفید

سرطان جیسے مہلک عارضے یا دیگر انفیکشن وغیرہ سے بچاؤ کے لئے کلونجی کا استعمال نہایت مفید ثابت ہوتا ہے.

بلڈ پریشر کنٹرول کرنے میں مفید

کلونجی کے بے شمار فوائد کے بارے میں تو سب ہی جانتے ہیں، کلونجی میں بے شمار بیماریوں سےنجات کی قوت ہے، کلونجی کو ادویات کے علاوہ کھانے اور اچار وغیرہ میں بھی استعمال کیا جاتا ہے. غرض یہ کہ کلونجی کھانے میں ذائقہ بھی پیدا کرتی ہے اور سینکڑوں بیماریوں میں شفا بھی ہے.

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے“کلونجی استعمال کیا کرو کیونکہ اس میں موت کے سوا ہر بیماری کے لئے شفا ہے”.حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آج سے چودہ سو سال قبل جو ارشادات فرمائے، طب و سائنس آج اس کی تصدیق کررہے ہیں.طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کلونجی کی افادیت کے بارے میں جتنی بھی ریسرچ کی گئی ہے اب تک اس کے تمام تر فوائد کا پتا نہیں چلایا جا سکا ہے،

حکمت چین ہو یا طب یونان، جڑی بوٹیوں کا استعمال جدید دور میں بھی مفید مانا جاتا ہےکلونجی کی یہ ایک اہم خاصیت ہے کہ یہ گرم اور سرد دونوں طرح کے امراض میں مفید ہے، جب کہ اس کی اپنی تاثیر گرم ہے اور سردی سے ہونے والے تمام امراض میں مفید ہے.

نظام ہضم کیلئے مفید

‫کلونجی نظام ہضم کیلئے مفید‬‎

کلونجی نظام ہضم کی اصلاح کے لئے اکسیر کا درجہ رکھتی ہے. ریاح، گیس اور بد ہضمی میں اس سے بہت فائدہ ہوتا ہے. وہ لوگ جن کو کھانے کے بعد پیٹ میں بھاری پن، گیس یا ریاح بھر جانے اور اپھارے کی شکایت محسوس ہوتی ہو، کلونجی کا سفوف تین گرام کھانے کے بعد استعمال کریں تو نہ صرف یہ شکایت جاتی رہے گی بلکہ معدے کی اصلاح بھی ہوگی.

سانس اور دمے کی تکلیف دور کرنے کیلئے

‫کلونجی سانس اور دمے کی تکلیف دور کرنے کیلئے‬‎

سانس کی تکلیف، دمے کا مرض، گردے اور جگر کی خرابی ہو یا دوران خون میں نقص کے سبب یا پھر دل کے عارضے ہوں، ان تمام بیماریوں کا موثرعلاج چُٹکی بھر کلونجی کے بیج یا اس کے خالص تیل کے چند قطروں کا مسلسل استعمال ہے.جسم کے مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے کے لئے کلونجی سے زیادہ موثر کوئی دوسری چیز نہیں، یہ درد کُش بھی ہے اور جسم کے کس بھی حصے میں ہونے والی سوزش میں بہت فائدہ مند بھی ثابت ہوتی ہے.

سرطان کیلئے مفید

سرطان جیسے مہلک عارضے یا دیگر انفیکشن وغیرہ سے بچاؤ کے لئے کلونجی کا استعمال نہایت مفید ثابت ہوتا ہے.

بلڈ پریشر کنٹرول کرنے میں مفید

ہم اپنے معاشرے پر نگاہ دوڑائیں تو اس میں بے پناہ طبقات ہیں- سیاست کے میدان میں سینکڑوں جماعتیں اور ہزاروں عہدیدار ہیں، اسٹیبلشمنٹ کی بات کریں تو اس میں بے شمار طاقت ور لوگ ہیں- اس ملک کو ’’ترقی‘‘ کی راہ پر چلانے کےلیے ہر ایک کا اپنا نقطہ نظر اور دوسرے سے مختلف نظریہ ہے- شب و روز ان کے اختلافات خبریں بن کر اخباروں کے صفحے بھرتے ہیں مگر جونہی لفظ ’’احتساب‘‘ آتا ہے تو گجرات کا چوہدری ہو، جاتی امرا کا شریف ہو، لاڑکانہ کا زرداری ہو یا راولپنڈی کا پرویز مشرف، یہ سب لوگ اپنی فطرت، مزاج، طاقت، عہدے اور اختلافات بھلا کر ایک چھتری تلے پناہ لے لیتے ہیں۔ اس چھتری کو ’’بیرون ملک علاج‘‘ کا نام دیا جاسکتا ہے۔ اس چھتری تلے آتے ہی سمجھو کہانی تقریباً ختم- یہ چند نام تو استعارے کے طور پر ہیں ورنہ یہ فہرست طویل سے طویل تر ہوتی جا رہی ہے- احتساب سے علاج تک کا سفر ہر چڑھتے سورج کے ساتھ پھیلتا چلا جاتا ہے۔

دیکھا جائے تو پاکستانی ڈاکٹروں کا شمار دنیا کے بہترین معالجوں میں ہوتا ہے۔ یہاں کے تعلیم یافتہ ماہر ڈاکٹروں نے امریکا سے لے کر یورپ تک اپنی پیشہ ور مہارت کے جھنڈے گاڑھے ہیں۔ مگر معاملہ جب احتساب کا آتا ہے تو یہ ہی ڈاکٹر بالکل عطائی معلوم ہوتے ہیں، احتساب کی چکّی سے گزرنے والے صاحب کو ’’غیر ملکی بیماری‘‘ گھیر لیتی ہے- یہ ایسی بیماری ہوتی ہے جس کا پاکستان میں علاج سرے سے ممکن ہی نہیں- یہ لوگ کبھی کمر درد کا، کبھی دل کے درد کا اور کبھی خفیہ امراض کا سرٹیفکیٹ لے کر ایسا رفوچکر ہوتے ہیں کہ بیماری اگلے ملک کے ایئرپورٹ پر اترتے ہی ختم ہو جاتی ہے، ساتھ ہی ان کا کیس بھی داخلِ دفتر ہوجاتا ہے۔
بیرونی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو ہمارے احتساب کا نظام محض ایک مذاق لگتا ہے؛ اور اس نظام کو چلانے والے اس مذاق کا حصّہ- یعنی اس ملک کا ایک متفقہ اصول ہے کہ اگر آپ صاحبِ زر ہیں تو جب چاہیں، جتنا چاہیں، جیسے چاہیں غریب عوام کے ٹیکس کا پیسا لوٹیںِ پھر اگر بادل نخواستہ احتساب کی زد میں آجائیں تو کوئی ایسی بیماری ڈھونڈ لیں جس کا علاج یہاں سرے سے ممکن ہی نہ ہو۔

جس طرح دوسرے اسپتالوں میں مختلف شعبے ہوتے ہیں اسی طرح احتساب اسپتال کے بھی مختلف شعبے بنائے جا سکتے ہیں- مثلاً وی آئی پی شعبہ، جس میں صرف ان افراد کا علاج ہو گا جو حکومت یا بیوروکریسی کا حصّہ ہیں اور اپنے علاج کےلیے سرکاری خزانے سے بیرون ملک جانا چاہتے ہیں- ان کا علاج بیرونی سہولیات سے آراستہ اسپتال میں کروا کے قوم کے ٹیکس کا پیسہ بچایا جا سکتا ہے۔ کیونکہ سرکاری خرچے پر علاج کروانے والوں کی فہرست پہلی فہرست سے بھی زیادہ طویل ہے۔

اس لیے حکام سے گزارش ہے کہ دورانِ تفتیش ملزموں کےلیے بیرون ملک علاج پر پابندی لگا کر ملک میں ہنگامی بنیادوں پر ایک ایسا جدید ترین اسپتال بنایا جائے جس میں ہر ’’غیر ملکی مرض‘‘ کا علاج ہو۔

پاکستانی عوام نیلی پیلی اسکیموں پر ضائع ہونے والا اربوں روپیہ پہلے ہی برداشت کر چکے ہیں، اس لیے جدید سہولیات سے آراستہ احتساب اسپتال پر چند ارب لگانے سے اگر آنے والی نسلوں کا بھلا ہو سکتا ہے تو یہ گھاٹے کا سودا نہ ہوگا