ایک عورت شوہر کے بغیرکتنے دن تک گزارہ کر سکتی ہے

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک خاتون آئی ۔ اس وقت ان کے مجلس میں دیگر صحابہ کے ساتھ عمرو بن وقاص رضی اللہ عنہ بھی تھے ۔ اس خاتون سے نے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا کہ میرے شوہر بہت اچھے اور نیک انسان ہے ساری رات اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور دن میں روزہ رکھتے ہیں اور اسن کے ساتھ جہاد میں پیش قدم رہتے ہیں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سنا تو فرمایا ۔ نیک اور تابعدار خواتین ایسی ہی اپنے شوہر کی تعریف کرتی ہے ۔ خاتون نے جب یہ سنا تو اٹھ کر چلی ۔

اس کے جانے کے فورا بعد عمرو بن وقاص رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ سے کہا حضرت وہ تعریف نہیں کر رہی شکایت کر رہیہے ۔ انہوں نے پوچھا وہ کیسے ۔ کہنے لگے کہ جب ایک شخص ساری رات عبادت کرے گا اور دن کو روزہ رکھے گا تو اپنی بیوی کے حقوق تو نہیں پوری کر پائے گا ۔

انہوں نے جب سنا تو کہا واہ میرا تو خیال ہی نہیں گیا اس عورت کو بلا بیجھا اور ساتھ میں شوہر کا پوچھا کہ کہا ہے تو انہوں نے کہا کہ آپ کے لشکر کے ساتھ گیا ہے حضرت نے اپنا بندہ وہاں بھیجا اور ساتھ میں کہلا بھیجا کہ امیر المومنین نے بلایا ہے لہذآ فورا حاضری دو۔ اس کے بعد آپ نے اپنی زوجہ سے پوچھا کہ ایک

خاتون کتنے عرصہ تک اپنے شہور سے دور رہ سکتےی ہے تو انہوں نے جواب میں کہا کہ زیادی سے زیادہ چار ماہ ۔ اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک قانون بنایا کہ کوئی بھی آدمی جس کا تعلق حکومت سے ہو وہ چار ماہ بعد گھر ضرور جائےگا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *