اللہ نے” عصر کی قسم “کیو ں کھائی اورکیوں فرمایا؟ انسان خسارے میں ہے

میں نے عرض کیا ’’خواجہ صاحب سائنس نے کمال کر دیا ہے ٗ قدرتی آفتیں اور بیماریاں انسان کے دو بڑے مسئلے ہیں ٗ سائنس ان دونوں کے حل کے قریب پہنچ چکی ہے ٗ اب وہ وقت دور نہیں جب انسان آفتوں اور عذابوں کے ہاتھ سے نکل آئے گا‘‘ وہ مسکرا کر میری طرف دیکھتے رہے ٗ وہ نرم آواز میں بولے ’’مثلاً سائنس نے کیا کر دیاہے‘‘ میں نے عرض کیا ’’سر زلزلے ٗ آتش فشاں ٗ آندھیاں ٗ طوفان اور سیلاب پانچ بڑی آفتیں ہیں ٗ سائنس نے ان آفتوں کی پیش گوئی کا سسٹم بنا لیا ہے ٗ

سائنس دانوں نے ایک ایسا کیمرہ بنایا ہے جو آتش فشاں کے پیندے میں چلا جاتا ہے اور وہاں آنے والی تبدیلیاں نوٹ کر لیتاہے ٗ ماہرین یہ تبدیلیاں دیکھ کر پیشن گوئی کر سکیں گے فلاں آتش فشاں فلاں دن اور فلاں وقت ابل پڑے گا ٗ اس سسٹم کے بعد آتش فشاں کے قریب آباد لوگ وہاں سے بروقت نقل مکانی کر جائیں گے ٗ یوں بے شمار لوگوں کی جانیں اور املاک بچ جائیں گی‘‘ خواجہ صاحب سکون سے سنتے رہے ٗ میں نے عرض کیا ’’زلزلے کے ماہرین نے ایک ایسی سلاخ بنائی ہے جو زمین کی تہہ میں پچاس ساٹھ کلومیٹر نیچے چلی جائے گی ٗیہ زمین کے اندر موجود پلیٹوں کی حرکت نوٹ کرے گی اب جونہی کسی پلیٹ میں کسی قسم کی حرکت ہوگی ماہرین زلزلے سے کہیں پہلے زلزلے کی شدت ٗ اس کے مرکز اور اس سے متاثر ہونے والے علاقے کا تخمینہ لگا لیں گے ٗ ماہرین اس علاقے کے لوگوں کوبروقت مطلع کردیں گے لہٰذا وہ لوگ زلزلے سے پہلے گھروں اور دفتروں سے باہر آ جائیں گے ٗ یوں ہزاروں لاکھوں زندگیاں بچ جائیں گی ٗ ماہرین نے عمارتوں کے ایسے ڈھانچے بھی بنا لئے ہیں جو ساڑھے نو درجے کی شدت سے آنے والے زلزلے میں بھی عمارت کو نقصان نہیں پہنچنے دیں گے چنانچہ وہ وقت دور نہیں جب زلزلے آئیں گے لیکن لوگ اطمینان سے اپنے معمول کے کام کرتے رہیں گے ‘‘ خواجہ صاحب بڑی توجہ سے میری بات سنتے رہے ٗ میں نے عرض کیا ’’بیماریاں

انسان کا سب سے بڑا مسئلہ ہیں ٗ سائنس دانوں نے اندازہ لگایا ہے ہمارے جینز میں ساڑھے چار ہزار بیماریاں ہوتی ہیں ٗ ہر بیماری کا ایک الگ جین ہوتا ہے ٗ سائنس دانوں نے اڑھائی ہزار مہلک بیماریوں کے جینز تلاش کر لئے ہیں لہٰذا اب وہ وقت دور نہیں جب سائنس دان تکلیف شروع ہونے سے پہلے کسی شخص کا معائنہ کریں گے ٗ اس میں پروان چڑھنے والے جینز دیکھیں گے ٗ ان جینز کو صحت مند جینز
کے ساتھ بدل دیں گے اور مریض مرض کے حملے سے

پہلے ہی صحت مند ہو جائے گا ٗ انسانی کلوننگ کا عمل بھی شروع ہونے والا ہے ٗ اگلے دس بیس برس میں انسان مرنے سے پہلے دوبارہ جنملینا شروع کر دے گا‘‘ خواجہ صاحب نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلادیا ٗ میں نے عرض کیا ’’اس طرح سائنس دانوں نے آندھیوں ٗ طوفانوں اور سیلابوں کی پیدائش کے مراکز بھی تلاش کر لئے ہیں ٗ ماہرین کا کہنا ہے اگر ان آفتوں کے مراکز تباہ کر دئیے جائیں تو یہ آفتیں پیدا نہیں ہونگیں ٗ سائنس دان ایسے آلے بنا رہے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *