پیسا اتنا زیادہ کے رکھنے کی جگہ نہ ملے…

قُلْ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ مِّنَ اللَّهْوِ وَ مِنَ التِّجَارَةِ وَ اللّٰهُ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ۝۱۱(سورۂ جمعہ)
ترجمہ:آپ فرمادیجئے کہ جو اللہ کے پاس ہے وہ کھیل اور تجارت سے بہتر ہے اور اللّہ تعالیٰ سب سے بہتر رازق ہے۔
ایک دوسرے مقا م پر اللہ تعالیٰ کاارشادہے:
إِنَّ اللّٰهَ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ۝۳۷ (آل عمران)
ترجمہ:بے شک اللہ جسے چاہتاہے بے حساب رزق دیتا ہے۔
مزیداللہ تعالیٰ ارشادفرماتاہے :
اَللّٰهُ لَطِیْفٌۢ بِعِبَادِهٖ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ …۝۱۹(شوریٰ)
ترجمہ:اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر مہربان ہے جسے چاہے رزق عطافرماتاہے۔
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر لطف وکرم فرمانے والاہےاوروہ جسے چاہتاہے رزق دیتا ہے، چنانچہ اگر کبھی کسی کی روزی کم ملے یاسرے سے ہی نہ ملے تو اُسے اس آیت کوپیش نظر رکھنا چاہیے کہ رزق کم ملنے یا بالکل نہ ملنے میں ضرور اس کا کوئی نہ کوئی لطف وکرم اور اس کی حکمت پوشیدہ ہے۔
اوربندے کے رزق میں جوکمی بیشی ہوتی ہے وہ بھی اللہ ہی کی جانب سےہوتی ہے،ارشادباری تعالیٰ ہے:
إِنَّ رَبَّكَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَقْدِرُ إِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِيرًا بَصِيرًا۔(اسرا:۳۰)
ترجمہ:بیشک تمہارا رب جسے چاہے رزق کشادہ دیتا ہے اور جسے چاہے کم دیتا ہےبےشک وہ اپنے بندوں کو خوب جانتا (اوراُن کے احوال کو) دیکھتا ہے۔
اسی لیے اللہ تعالیٰ نے رزق نہ ملنے کے ڈرسے بچوں کے قتل پرسخت بندش فرمائی ہے،اللہ کا ارشادہے:
وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ مِنْ إِمْلَاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَإِيَّاهُمْ۔(انعام )
ترجمہ:اپنی اولاد کو مفلسی کے خوف سے نہ مارو ،ہم تمھیں بھی رزق دیتے ہیں اور انھیں بھی۔
لیکن اس سے زیادہ تر لوگ غافل ہیں جیساکہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ ارشادفرماتا ہے:
قُلْ إِنَّ رَبِّي يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَقْدِرُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ۔(سبا:۳۶)
ترجمہ:اے محبوب! فرمادیجئے کہ بےشک میرا رب رزق وسیع کرتا ہے جس کے لیے چاہے اور تنگی فرماتا ہے (جس کے لیے چاہے) لیکن زیادہ تر لوگ نہیں جانتے ۔
مگریہاں یہ بات یادرہے کہ رزق میں کمی ،نہ تواللہ کی ناراضگی کی دلیل ہے اور نہ تورزق میں زیادتی، اللہ کی رضا کی دلیل ہے،بلکہ یہ سب امتحان اور آزمائش کے طورپر ہوتاہے ۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی ایسا بھی ہوتاہے کہ گنہگار کے رزق میں وسعت ہوتی ہے اور کبھی ایسا بھی ہوتاہے کہ نیک و فرماںبردار بندوںکے رزق میں تنگی ہوتی ہے۔
ان قرآنی آیات کی روشنی میں یہ حقیقت جان لینے کے بعدکہ رزق میں خوشحالی اورتنگی لانے کا تنہامالک صرف اللہ ہے اس کےسوا اور کوئی نہیں، یہاںپر ہم چندایسے اعمال واسباب کا ذکر کرتے ہیںجن کو خوداللہ تعالیٰ نے رزق میں کشادگی وبہتری کا بہترین نسخہ قرار دیا ہے،مثلاً:
۱۔کسب رزق
اس کا مطلب ہے کہ رزق حاصل کرنے کے لیےکوشش کرنا اور ا س کےلیے طرح طرح کے طریقے اختیارکرنا، مثلا:
کسانی وکاشت کاری،صنعت وحرفت،تجارت، کاریگری اور نوکری وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ ارشادفرماتاہے:
هُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الأَرْضَ ذَلُولاً فَامْشُوْا فِي مَنَاكِبِهَا وَكُلُوْا مِنْ رِزْقِهٖ وَإِلَيْهِ النُّشُورُ۝۱۵ (ملك)
ترجمہ:وہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین آسان کردی تو اس کے رستوں میں چلو اور اللہ کی روزی میں سے کھاؤ اور اسی کی طرف اٹھنا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *