برف کے درمیان یہ نشان کس چیز کے ہیں؟ سائنسدان پہاڑوں میں ان کا پیچھا کرتے رہے تو بالآخر کس جگہ پہنچ گئے؟ دیکھ کر آپ کے بھی ہوش اُڑجائیں گے

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) انٹارکٹکا میں برف کے درمیان سائنسدانوں کو کچھ عجیب و غریب نشانات ملے اور جب انہوں نے اس پر تحقیق کی تو ایسا حیران کن انکشاف ہوا کہ سائنسدانوں کے بھی ہوش اڑ گئے۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق برف کے درمیان ایک لکیر نما نشانات کے متعلق سائنسدانوں نے بتایا ہے کہ ”یہ نشان 1979ءمیں یہاں گر کر تباہ ہونے والے مسافر طیارے کی وجہ سے بنے، جو تاریخ کا سب سے تباہ کن فضائی حادثہ ہے۔“

رپورٹ کے مطابق یہ ایئرنیوزی لینڈ کی پرواز901تھی جو انٹارکٹکا کے اس علاقے میں پہاڑ سے ٹکرا کر گری اور تباہ ہو گئی تھی۔ اس میں 237مسافر سوار تھے جو سب کے سب لقمہ اجل بن گئے۔جوئی پیپلراڈو نامی ماہر کا کہنا ہے کہ ”اس بدنصیب طیارے کے ملبے کا بیشتر حصہ جائے وقوعہ پر موجود رہا جس کی وجہ سے اب ان جگہوں پر برف میں نشانات نمایاں ہو گئے ہیں۔ان نشانات کو دیکھ کر لگا ہے کہ یہاں کسی چیز کی انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ لینڈنگ ہوئی ہے۔“

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *