قبروں میں تلاوت قرآن کرنے والے شہدا کی ارواح کہاں ہوتی ہیں؟ ایک ایسی روشن حقیقت جو آپ کے دل کی آنکھیں کھول دے گی

مسلمانوں کا ایمان ہے کہ شہدا زندہ ہوتے ہیں اور ان کی ارواح دنیا میں اپنی موجودگی کا ثبوت بھی دیتی رہتی ہیں۔ حافظِ حدیث شیخ ابوعبداللہ محمد بن مندہ جو محدثین کبار تھے اور تفسیر وحدیث، فقہ وتاریخ اور علومِ اسماء الرجال کے ماہرین میں شمار کیے جاتے ہیں، نے اپنی کتب میں اس حوالہ سے ایک اہم ترین واقعہ بیان کیا ہے ۔انہوں نے حضرت ابو طلحہ بن عبید اللہؓ کے حوالہ سے روایت بیان کی ہے جس میں آپؓ فرماتے ہیں کہ ’’ میں اپنی زمین کی دیکھ بھال کے لئے ’’غابہ‘‘ جارہا تھا ۔راستہ میں رات ہوگئی۔ اس لئے میں حضرت عبداللہ بن عمروؓ کی قبر کے پاس ٹھہر گیاَ جب کچھ رات گزرگئی تو میں نے ان کی قبر میں سے تلاوت کی اتنی بہترین آواز سنی کہ اس سے پہلے اتنی اچھی قرأت میں نے کبھی بھی نہیں سنی تھی۔

جب میں مدینہ منورہ واپس لوٹ کر آیا اور میں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’کیا اے ابو طلحہ! تم کو یہ معلوم نہیں کہ خدا نے ان شہیدوں کی ارواح کو قبض کرکے زبر جد اور یاقوت کی قندیلوں میں رکھا ہے اور ان قندیلوں کو جنت کے باغوں میں آویزاں فرمادیا ہے۔ جب رات ہوتی ہے تو یہ روحیں قندیلوں سے نکال کر ان کے جسموں میں ڈال دی جاتی ہیں، پھر صبح کو وہ اپنی جگہوں پر واپس لائی جاتی ہیں۔‘‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *