ایک عورت شوہر کے بغیرکتنے دن تک گزارہ کر سکتی ہے

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک خاتون آئی ۔ اس وقت ان کے مجلس میں دیگر صحابہ کے ساتھ عمرو بن وقاص رضی اللہ عنہ بھی تھے ۔ اس خاتون سے نے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا کہ میرے شوہر بہت اچھے اور نیک انسان ہے ساری رات اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور دن میں روزہ رکھتے ہیں اور اسن کے ساتھ جہاد میں پیش قدم رہتے ہیں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سنا تو فرمایا ۔ نیک اور تابعدار خواتین ایسی ہی اپنے شوہر کی تعریف کرتی ہے ۔ خاتون نے جب یہ سنا تو اٹھ کر چلی ۔

اس کے جانے کے فورا بعد عمرو بن وقاص رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ سے کہا حضرت وہ تعریف نہیں کر رہی شکایت کر رہیہے ۔ انہوں نے پوچھا وہ کیسے ۔ کہنے لگے کہ جب ایک شخص ساری رات عبادت کرے گا اور دن کو روزہ رکھے گا تو اپنی بیوی کے حقوق تو نہیں پوری کر پائے گا ۔

انہوں نے جب سنا تو کہا واہ میرا تو خیال ہی نہیں گیا اس عورت کو بلا بیجھا اور ساتھ میں شوہر کا پوچھا کہ کہا ہے تو انہوں نے کہا کہ آپ کے لشکر کے ساتھ گیا ہے حضرت نے اپنا بندہ وہاں بھیجا اور ساتھ میں کہلا بھیجا کہ امیر المومنین نے بلایا ہے لہذآ فورا حاضری دو۔ اس کے بعد آپ نے اپنی زوجہ سے پوچھا کہ ایک

خاتون کتنے عرصہ تک اپنے شہور سے دور رہ سکتےی ہے تو انہوں نے جواب میں کہا کہ زیادی سے زیادہ چار ماہ ۔ اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک قانون بنایا کہ کوئی بھی آدمی جس کا تعلق حکومت سے ہو وہ چار ماہ بعد گھر ضرور جائےگا ۔

خوشحال زندگی گزارنے کیلئے صبح و شام 3،3مرتبہ یہ 3سورتیں پڑھیں

نبی کریمؐ کو کائنات کیلئے رحمت بنا کر بھیجا گیا، آپ نہ صرف احکامات خداوندی قیامت تک کے انسانوں کیلئے دے کر بھیجے گئے بلکہ آپ کی ذات اطہر و طاہر کو سرتاپا رحمت بنا دیا گیا، آپ نے قیامت تک آنیوالی انسانیت کیلئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے گئے پیغام کو نہ صرف انسانوں تک پہنچایا بلکہ ان کے مصائب و آلام دور کرنے کیلئے شریعت کے بتائے طریقوں کو اپنانے کا درس دیا۔ نبی کریمؐ کی احادیث مبارکہ کامفہوم ہے کہ ’’جوشخص صبح و شام تین تین مرتبہ سورہ اخلاص، سورہ الفلق اور سورہ الناس پڑھےگا وہ

الناس پڑھےگا وہ ہر طرح کے مصائب اور رنج و غم سے محفوظ رہے گا۔‘‘آج کے اس نفسا نفسی کے دور میں جہاں ہر انسان ذہنی پریشانی، بے سکونی میں مبتلا ہے تو ایسے میں اس حدیث میں نبی کریمؐ کے بتائے ہوئے طریقے سے نہ صرف دلی سکون، ذہنی آسودگی حاصل کی جا سکتی ہے بلکہ جادو، حسد اور شریروں کی شرارتوں سے بھی بچا جا سکتا ہے۔

سورہ اخلاص

سورہ الفلق

سورہ الناس

لٹکے پیٹ کو کیسے کم کیا جائے دیکھیں اس ویڈیو میں

دور جدید میں بڑھا ہوا پیٹ ایک المیہ ہے۔ جس نے ہر مرد و عورت کو پریشان کر رکھا ہے۔ اگرچہ بڑھے ہوئے پیٹ کے حامل افراد بہت سے ٹوٹکے تو آزمائے ہیں لیکن وہ بہت کم ہی کامیاب ہو پاتے ہیں- ہم آپ کو آج چند ایسے مشروبات کے بارے میں بتائیں گے جن کا استعمال کر کے آپ اس مصیبت سے جان چھڑا سکتے ہیں- یہ مشروبات کم کیلوریز پر مشتمل ہوتے ہیں لیکن پیٹ کو تیزی کے ساتھ یا مختصر وقت میں کم کرنے میں انتہائی مددگار ثابت ہوتے ہیں- کیسے کم کیا جائے لٹکے ہوئے پیٹ کو دیکھیں اس اردو کے نیچے ایک ویڈیو میں اور شیئر بھی کریں اور خد بھی ر

Ice cold water برف والے ٹھنڈے پانی کے استعمال سے آپ کے جسم میں موجود زیادہ سے زیادہ کیلوریز کا خاتمہ ممکن ہے- یہ پانی آپ کے میٹابولک نظام کو تیز کردیتا ہے- لیکن اپنے مطلوبہ نتائج کے حصول کے لیے آپ کو روزانہ کم سے کم 16 اونس ٹھنڈا پانی پینا ہوگا- 01 Black and Green Tea سبز چائے کا استعمال ایسے افراد کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوتا ہے جو اپنا وزن کم کرنا چاہتے ہیں-

یہ چائے جسم میں موجود کیلوریز کو جلاتی ہے اور میٹابولک ںظام کو تیز کرتی ہے- سبز چائے دوسرے مشروبات کی نسبت 43 فیصد زیادہ کیلوریز جلانے کی صلاحیت رکھتی ہے- اور یہی خصوصیات کالی چائے میں بھی موجود ہوتی ہیں- اگر آپ پیٹ کم کرنا چاہتے ہیں تو یہ چائے آپ کے لیے بہترین ہے-02 Vegetable Juice سبزیوں کا استعمال صحت کے لیے انتہائی فائدہ مند ہوتا ہے اس لیے انہیں اپنی خوراک کا حصہ ضرور بنائیں-

لیکن اگر سبزیوں کا رس پیا جائے تو یہ نہ صرف دل و دماغ کو فرحت و تازگی بخشتا ہے بلکہ کیلوریز جلاںے میں مؤثر بھی ثابت ہوتا ہے- جس کے بعد آپ کا پیٹ کم ہوسکتا ہے- 03 termelon Smoothie تربوز کا جوس جسم میں نمی کو قائم رکھنے کے حوالے سے ایک بہترین مشروب ہے- یہ مشروب انتہائی کم کیلوریز اور بہت زیادہ پانی پر مشتمل ہوتا ہے- اس کے علاوہ یہ پٹھوں کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ پیٹ کی چربی کو کم بھی کرتا ہے- اس لیے پیٹ کم کرنے کے حوالے سے یہ مشروب ایک بہترین انتخاب ثابت ہوسکتا ہے- 04
Coconut water ناریل کا پانی الیکٹرو لائٹس (electrolytes) سے بھرپور ہوتا ہے اور یہاں فہرست میں موجود تمام مشروبات سے زیادہ الیکٹرو لائٹس ناریل پانی میں پائے جاتے ہیں- اور یہ مادہ جسم میں نمی کو برقرار رکھتا ہے- ناریل پانی کو بغیر مصنوعی فلیور اور چینی کے پینا چاہیے- یہ توانائی میں اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ میٹابولزم کے

عمل کو تیز کرتا ہے- 05 Nutritional Drinks عذائی مشروبات انسان پر مثبت اثر ڈالتے ہیں اور صحت بخش ہوتے ہیں- غذائی مشروبات کے استعمال سے آپ وزن کم کرسکتے ہیں اور اس کے لیے ایک گلاس پینا ہی کافی ہوتا ہے کیونکہ یہ طویل وقت تک توانائی فراہم کرسکتے ہیں- لیکن یہ خصوصیات تمام غذائی مشروبات میں موجود نہیں ہوتی اس لیے ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر استعمال نہ کریں-

اور اس بات کی تصدیق کرلیں کہ کونسا غذائی مشروب آپ کے لیے بہتر ہے-06 Skim Milk یہ ایک ایسا دودھ جس میں کریم موجود نہیں ہوتی- اس دودھ کا استعمال جسم میں موجود چربی کو کم کرتا ہے- ماہرینِ غذائیات کے مطابق ایسے افراد جو ڈیری مصنوعات استعمال نہیں کرتے ان کی اضافی چربی ایسے لوگوں کے مقابلے 70 فیصد کم ہوتی ہے جو ان مصنوعات کا استعمال کرتے ہیں-اگر آپ اس دودھ سے مطلوبہ نتائچ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو روزانہ ایک گلاس ضرور پئیں-

شعیب اختر سے اکیس سال چھوٹی اس کی خوبصورت اور جوان بیوی کو دیکھ کر آپ دنگ رہ جائیں گے ویڈیو دیکھیں

شعیب اختر سے اکیس سال چھوٹی اس کی خوبصورت اور جوان بیوی کو دیکھ کر آپ دنگ رہ جائیں گے ویڈیو دیکھیں شعیب اختر سے اکیس سال چھوٹی اس کی خوبصورت اور جوان بیوی کو دیکھ کر آپ دنگ رہ جائیں گے ویڈیو دیکھیں پی ایس ایل میں کون کون سے غیر ملکی کھلاڑی آرہے ہیں پی ایس ایل کی دھوم پوری دنیا میں ہو جائے گی ویڈیو دیکھیں غیر ملکی کرکٹرز میں کون کون پاکستان جائے گا کون کون نہیں ناموں کی فائنل لسٹ سامنے آگئی ویڈیو دیکھیں غیر ملکی کرکٹرز میں کون کون پاکستان جائے گا کون کون نہیں ناموں کی فائنل لسٹ سامنے آگئی ویڈیو دیکھیں غیر ملکی کرکٹرز میں کون کون پاکستان جائے گا کون کون نہیں ناموں کی فائنل لسٹ سامنے آگئی ویڈیو دیکھیں پی ایس ایل میں بھی آئی پی ایل کی طرز پر یہ کام کیا جائے ۔۔۔

سابق کرکٹر رمیز راجہ نے کرکٹ بورڈ سے حیران کن مطالبہ کر ڈالا پی ایس ایل میں بھی آئی پی ایل کی طرز پر یہ کام کیا جائے ۔۔۔ سابق کرکٹر رمیز راجہ نے کرکٹ بورڈ سے حیران کن مطالبہ کر ڈالا مایہ ناز سابق کرکٹر اور کمنٹیٹر رمیز راجہ نے پاکستان سپر لیگ میں کھلاڑیوں کے انتخاب کیلئے استعمال کیے جانے والے موجودہ ڈرافٹ سسٹم کی جگہ بولی کے بنیاد پر کھلاڑیوں کے انتخاب کے طریقہ کار کو اپنانے کی تجویز پیش کی ہے۔پی ایس ایل کے موجودہ نظام کے تحت لیگ کیلئے دستیاب کھلاڑیوں کو ڈرافٹ کے ذریعے سے منتخب کیا جاتا ہے۔

یہ نظام شمالی امریکا کی کامیب لیگوں جیسے این بی اے اور این ایف ایل میں استعمال کیا جاتا ہے لیکن اس نظام میں فائدہ سب سے کمزور ٹیم کا ہوتا ہے کیونکہ انہیں سب سے پہلے کھلاڑیوں کے انتخاب کا حق حاصل ہوتا ہے جس سے کسی ایک ٹیم کی مستقل فتوحات کا خطرہ ٹلنے کے ساتھ ساتھ یکطرفہ مقابلے کے بجائے بہترین کھیل دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔تاہم اس نظام کی بڑی خامی یہ ہے کہ اس میں ٹیموں کے پاس کھلاڑیوں کی خدمات حاصل کرنے کیلئے ایک محدود رقم ہوتی ہے اور اس پابندی کی وجہ سے دنیائے کرکٹ کے اکثر صف اویل کے کھلاڑی پاکستان سپر لیگ میں شرکت نہیں کر سکے۔

اس کے برعکس انڈین پریمیئر لیگ میں استعمال کیے جانے والا آکش سسٹم(بولی کا نظام) اس لیگ کو دنیا کی کامیاب ترین کرکٹ لیگ بنا گیا جہاں فرنچائز اپنی مرضی اور استطاعت کے مطابق جتنی رقم خرم کرنا چاہیں کر سکتی ہیں اور ان پر محدود رقم کے اندر کھلاڑیوں کی خدمات حاصل کرنے کا دباؤ بھی نہیں ہوتا اور یہی وجہ ہے کہ انڈین پریمیئر لیگ میں چند فرنچائز بہت مضبوط اور ان کی فتوحات بھی زیادہ ہیں۔رمیز راجہ کا ماننا ہے کہ اگر پی ایس ایل بھی بولی کا نظام اپناتا ہے تو وہ دنیا کے بہترین کھلاڑیوں کی توجہ حاصل کر سکے گا اور انہیں بھی ڈرافٹ کی جگہ آکشن کا نظام اپنانا چاہیے۔ اس سے چند بڑی ٹیمیں ضرور مضبوط ہوں گی لیکن دیگر ٹیمیں بھی مزید کوششیں کریں گی اور مالی لحاظ سے یہ بہت بڑی لیگ بن جائے گی۔

قومی ٹیم کے سابق کپتان نے مزید کہا کہ ایسا کرنے کی صورت میں زیادہ بڑے انٹرنیشنل کھلاڑی لیگ کا حصہ بن سکیں گے اور اسے انڈین پریمیئر لیگ کیلئے وارم اپ میچز کے طور پر نہیں لیں گے جہاں انہیں حد سے زیادہ بڑی رقم ملتی ہے۔رمیز راجہ نے رواں اسٹیڈیم میں لوگوں کی کم تعداد میں آمد پر بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ لیگ اور فرنچائزوں نے اسٹیڈیم میں تماشائیوں کو لانے کیلئے کوئی اقدامات نہ کیے۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ٹور آپریٹرز کی خدمات حاصل کرنے کی ضرورت ہے، پاکستان سے شائقین کو لانا چاہیے۔ لیگ میں جن جن لوگوں نے سرمایہ کاری کی ہے، انہیں تماشائیوں کو لانے کیلئے اپنے طور پر بھرپور کوششیں کرنی چاہئیں کیونکہ یہ ان کی ٹیم کیلئے اچھا ہے۔

پی ایس ایل میں بھی آئی پی ایل کی طرز پر یہ کام کیا جائے ۔۔۔ سابق کرکٹر رمیز راجہ نے کرکٹ بورڈ سے حیران کن مطالبہ کر ڈالا پی ایس ایل میں بھی آئی پی ایل کی طرز پر یہ کام کیا جائے ۔۔۔ سابق کرکٹر رمیز راجہ نے کرکٹ بورڈ سے حیران کن مطالبہ کر ڈالا مایہ ناز سابق کرکٹر اور کمنٹیٹر رمیز راجہ نے پاکستان سپر لیگ میں کھلاڑیوں کے انتخاب کیلئے استعمال کیے جانے والے موجودہ ڈرافٹ سسٹم کی جگہ بولی کے بنیاد پر کھلاڑیوں کے انتخاب کے طریقہ کار کو اپنانے کی تجویز پیش کی ہے۔پی ایس ایل کے موجودہ نظام کے تحت لیگ کیلئے دستیاب کھلاڑیوں کو ڈرافٹ کے ذریعے سے منتخب کیا جاتا ہے۔

یہ نظام شمالی امریکا کی کامیب لیگوں جیسے این بی اے اور این ایف ایل میں استعمال کیا جاتا ہے لیکن اس نظام میں فائدہ سب سے کمزور ٹیم کا ہوتا ہے کیونکہ انہیں سب سے پہلے کھلاڑیوں کے انتخاب کا حق حاصل ہوتا ہے جس سے کسی ایک ٹیم کی مستقل فتوحات کا خطرہ ٹلنے کے ساتھ ساتھ یکطرفہ مقابلے کے بجائے بہترین کھیل دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔تاہم اس نظام کی بڑی خامی یہ ہے کہ اس میں ٹیموں کے پاس کھلاڑیوں کی خدمات حاصل کرنے کیلئے ایک محدود رقم ہوتی ہے اور اس پابندی کی وجہ سے دنیائے کرکٹ کے اکثر صف اویل کے کھلاڑی پاکستان سپر لیگ میں شرکت نہیں کر سکے۔

اس کے برعکس انڈین پریمیئر لیگ میں استعمال کیے جانے والا آکش سسٹم(بولی کا نظام) اس لیگ کو دنیا کی کامیاب ترین کرکٹ لیگ بنا گیا جہاں فرنچائز اپنی مرضی اور استطاعت کے مطابق جتنی رقم خرم کرنا چاہیں کر سکتی ہیں اور ان پر محدود رقم کے اندر کھلاڑیوں کی خدمات حاصل کرنے کا دباؤ بھی نہیں ہوتا اور یہی وجہ ہے کہ انڈین پریمیئر لیگ میں چند فرنچائز بہت مضبوط اور ان کی فتوحات بھی زیادہ ہیں۔رمیز راجہ کا ماننا ہے کہ اگر پی ایس ایل بھی بولی کا نظام اپناتا ہے تو وہ دنیا کے بہترین کھلاڑیوں کی توجہ حاصل کر سکے گا اور انہیں بھی ڈرافٹ کی جگہ آکشن کا نظام اپنانا چاہیے۔ اس سے چند بڑی ٹیمیں ضرور مضبوط ہوں گی لیکن دیگر ٹیمیں بھی مزید کوششیں کریں گی اور مالی لحاظ سے یہ بہت بڑی لیگ بن جائے گی۔

قومی ٹیم کے سابق کپتان نے مزید کہا کہ ایسا کرنے کی صورت میں زیادہ بڑے انٹرنیشنل کھلاڑی لیگ کا حصہ بن سکیں گے اور اسے انڈین پریمیئر لیگ کیلئے وارم اپ میچز کے طور پر نہیں لیں گے جہاں انہیں حد سے زیادہ بڑی رقم ملتی ہے۔رمیز راجہ نے رواں اسٹیڈیم میں لوگوں کی کم تعداد میں آمد پر بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ لیگ اور فرنچائزوں نے اسٹیڈیم میں تماشائیوں کو لانے کیلئے کوئی اقدامات نہ کیے۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ٹور آپریٹرز کی خدمات حاصل کرنے کی ضرورت ہے، پاکستان سے شائقین کو لانا چاہیے۔ لیگ میں جن جن لوگوں نے سرمایہ کاری کی ہے، انہیں تماشائیوں کو لانے کیلئے اپنے طور پر بھرپور کوششیں کرنی چاہئیں کیونکہ یہ ان کی ٹیم کیلئے اچھا ہے۔

ایک لڑکی خود لذتی کی بیماری میں مبتلا ہے

ایک لڑکی خود لذتی کی بیماری میں مبتلا ہے، ہر بار توبہ کرنے کے باوجود دوبارہ ملوث ہو جاتی ہے

سوال: میں نوجوان لڑکی ہوں اور خود لذتی کی بیماری میں مبتلا ہوں، میں نے کئی بار اس برائی کو چھوڑا ہے لیکن دوبارہ پھر اس میں مبتلا ہو جاتی ہوں، میں نے کئی بات توبہ کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن پھر دوبارہ اسی غلطی میں مبتلا ہو جاتی ہوں، لیکن جب بھی غلطی کر تی ہوں تو مجھے بہت زیادہ دکھ اور تکلیف کا احساس ہوتا ہے. تو کیا اس گناہ سے بچنے کیلیے کوئی کار آمد طریقہ ہے؟ کہ میں دوبارہ اس کام میں ملوث نہ ہو سکوں، اور کیا اللہ تعالی میری توبہ قبول فرماتا ہے؟ میں نے خود لذتی کی جگہ پر کئی بار اپنے آپ کو جلانے کی کوشش بھی کی لیکن میں پھر دوبارہ اسی لعنت میں مبتلا ہو جاتی ہوں! جواب: یہ بات واضح ہے کہ: اللہ تعالی نے انسان کو پیداانسان کو پیدا فرمایا اور اس میں شہوت بھی رکھی ہے، اللہ تعالی کو شہوت کے مقابلے میں انسان کی کمزوری کا علم ہے، اسی لیے ہمارے لیے ایسے شرعی بندوبست کئے جن کی وجہ سے ہم حرام کاموں میں ملوث ہونے سے بچ سکتے ہیں-

پھر اگر کوئی حرام میں ملوث ہو بھی جائے تو اللہ تعالی نے ہمارے لیے اس کا علاج بھی مہیا فرمایا تا کہ جہاں ہم غفلت اور بے راہ روی میں لتھڑے ہوئے نفس امارہ اور شیطانی چالوں کی وجہ سے گناہ کے راستے پر چل نکلے تھے وہاں سے واپس لوٹ آئیں.ایسی صورت حال میں خیر و بھلائی اور نجات کا بنیادی ذریعہ یہ ہے کہ: گناہ میں ملوث ہونے سے پہلے ہی نفس کا مقابلہ کریں، تمام ایسے امور سے دور ہو جائیں جو انسان کو گناہ پر ابھار سکتے ہیں یا گناہ کیلیے معاون بن سکتے ہیں، یا گناہ کو اچھا بنا کر پیش کر سکتے ہیں، تو انسان کو چاہیے کہ ہر وقت اپنا دین بچا کر رکھے اور اللہ تعالی سے لو لگائے، نفس امارہ سے دور بھاگے، برے دوستوں اور برے ماحول سے بچے، اللہ تعالی کے عذاب سے ڈر کر رحمت اور رضائے الہی کی جستجو میں لگا رہے. اور اگر پھر بھی گناہ میں ملوث ہو جائے تو اب اس کا علاج صرفیہی ہے کہ سچی اور پکی توبہ کرے، فوری اور لازمی طور پر اللہ تعالی سے اپنا ٹوٹا ہوا رابطہ استوار کرے، اس سے پہلے کہ موت اس کی توبہ کی راہ میں رکاوٹ بن جائے اور وہ گناہ کی حالت میں ہی یہاں سے چل بسے. صحیح بخاری: (7065) اور مسلم: (2758) میں ہے کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالی سے حدیث قدسی بیان فرمائی: اللہ تعالی فرماتا ہے: کوئی بندہ گناہ کرے اور پھر کہے: یا اللہ! میرا یہ گناہ معاف فرما دے-

تو اللہ تعالی فرماتا ہے: میرے بندے نے گناہ کیا اور اسے علم ہے کہ اس کا رب ہے وہی گناہوں کو بخشتا ہے اور گناہوں پر پکڑ بھی کرتا ہے. بندہ پھر دوبارہ وہی گناہ کر کے کہتا ہے: پروردگار! میرا یہ گناہ معاف فرما دے! تو اللہ تعالی فرماتا ہے: میرے بندے نے گناہ کیا اور اسے علم ہے کہ اس کا رب ہے وہی گناہوں کو بخشتا ہے اورگناہوں پر پکڑ بھی کرتا ہے. بندہ پھر تیسری بار بھی وہی گناہ کر کے کہتا ہے: پروردگار! میرا یہ گناہ معاف فرما دے! تو اللہ تعالی فرماتا ہے: میرے بندے نے گناہ کیا اور اسے علم ہے کہ اس کا رب ہے وہی گناہوں کو بخشتا ہے اور گناہوں پر پکڑ بھی کرتا ہے. میں نے اپنے بندے کو معاف کر دیا، اب جو چاہے عمل کرے” امام نووی رحمہ اللہ اس حدیث اور اس مسئلے سے متعلق دیگر احادیث کی شرح بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: “یہ احادیث اس بارے میں بالکل واضح ہیں کہ گناہ چاہے سو بار ہو جائے یا ہزار بار یا اس سے بھی زیادہ بار اور انسان ہر بار توبہ کرے تو اس کی توبہ قبول کی جاتی ہے، اس توبہ کی وجہ سےاس کے گناہ دھل جاتے ہیں” انتہی ” شرح مسلم” از نووی (17/230) لہذا مندرجہ بالا حدیث کی روشنی میں آپ کا معاملہ سچی توبہ کے ساتھ منسلک ہے اور سچی توبہ اس بات کو کہتے ہیں کہ:

آپ مکمل طور پر گناہ چھوڑنے کا عزم کریں، اپنے آپ کو گناہ سے دور رہنے کا عادی بنائیں، اور آئندہ نہ کرنے کا پختہ عزم کریں اور اس کیلیے معاون اقدامات بھی بروئے کار لائیں، ماضی میں سر زد ہونے والے گناہوں پر اظہار پشیمانی بھی کریں اور ان کی بخشش بھی مانگیں. البتہ آپ اپنے آپ کو جلانے ، قتل کرنے یا تسلسل کے ساتھ گناہ کرتے رہنے کے بارے میں سوچیں تو یہ موجودہ گناہ سے بھی کہیں بڑا گناہ ہو گا، ایسے شخص کی مثال تو یہی ہے کہ جو گرمی کی شدت سے جھلس رہا ہو اور اپنے آپ کو آگ میں ڈال دے؛ تو کیا کوئی عاقل ایسا عمل کر سکتا ہے؟! دوم: ہمارے پاس کوئی جادوئی طریقہ اور عمل تو نہیں ہے کہ آپ کو بتلائیں اور آپ فوری طور پر اس گناہ کی دلدل سے باہر آ جائیں، البتہ آپ اس گناہ سے بچنے کیلیے محنت ، ڈٹ کر نفس امارہ کا مقابلہ اور سچی توبہ کر کے ثواب کی امید کر سکتی ہیں-

اس کے ساتھ ساتھ کچھ عملی اقدامات بھی ہیںجو آپ کیلیے گناہ سے دور رہنے میں معاون ثابت ہوں گے، ان شاء اللہ – سب سے پہلے شادی: یہ سب سے افضل اور عظیم ترین علاج ہے، بلکہ شہوت کو بنی نوعِ آدم کے جسم میں رکھنے کا مقصد اور ہدف بھی ہے، کہ شہوت کی وجہ سے شادی پر راغب ہوتے ہیں اور انسانی نسل کی افزائش کا ذریعہ بنتے ہیں، صرف اس لیے کہ یہ کائنات اللہ تعالی کی مقرر کی ہوئی عمر پوری کرے اور یہاں انسانیت باقی رہے. اس لیے آپ جلد از جلد شادی کی کوشش کریں اور اپنی پڑھائی یا اسی طرح کے دوسرے بہانوں کو آڑ بنا کر آنے والے مناسب رشتے کو مسترد مت کریں. کیونکہ اس وقت آپ کیلیے شادی دیگر کسی بھی مقصد سے ضروری ہے؛ بلکہ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ آپ خود اچھے خاوند کی تلاش میں لگ جائیں یعنی اپنی دین دار مخلص اور اچھی سہیلیوں اور جاننے والی خواتین کئ ذریعے رشتہ تلاش کریں،آپ جیسی نوجوان لڑکیوں اور لڑکوں کو ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نصیحت فرمائی ہے کہ:

(نوجوانو! جو تم میں سے شادی کے اخراجات کی صلاحیت رکھتا ہے تو وہ شادی کر لے؛ کیونکہ شادی سے نظریں جھک جاتی ہیں اور شرمگاہ محفوظ ہو جاتی ہے، اور اگر کسی کے پاس استطاعت نہیں ہے تو وہ روزے رکھے اس سے شہوت ٹوٹ جائے گی) متفق علیہ – ایسی فلموں، ڈراموں اور رومانسی قصوں اور کہانیوں سے بالکل دور رہیں جن کی وجہ سے شہوت بھڑکتی ہے، اسی طرح حیا باختہ ویب سائٹس سے دور رہیں ، کسی بھی ایسی دیکھنے،سننے کی چیز سے دور رہیں جس سے شہوت انگیخت ہوتی ہو یا مخلوط مجالس سے اپنے آپ کو دور رکھیں. – اپنے آپ کو فارغ مت رکھیں بلکہ ہر وقت کسی نہ کسی مفید سر گرمی میں مصروف رہیں، قرآن مجید کا مطالعہ کریں، تلاوت کریں اور دیگر نیکی کے کام سر انجام دیں. – ہر وقت با وضو رہنے کی کوشش کریں اور وقت پر نمازیں ادا کریں. – خلوت اور جلوت ، تنہائی اور مجلس ہر وقت میں اللہ تعالی کو اپنا نگران اور نگہبان سمجھیں، یہ بندے کیلیے ہمہ قسم کی کامیابی کی چابی ہے-

سچے دل کے ساتھ اللہ تعالی سے گڑ گڑا کر مانگیں کہ اللہ تعالی اس نفسانی بیماری سے نجات دلائے اور شہوت پر آپ کو کنٹرول دے، اور آپ کیلیے ایسے حلال وسائل مہیا فرمائے جن کی وجہ سے آپ کی شہوت پوری ہو، آپ کو حرام کاموں سے محفوظ کرے بلکہ حرام کاموں کے ذرائع اور اسباب سے بھی دور کر دے. مزید کیلیے آپ سوال نمبر: (329) ، (103112) اور (210259) کا جواب بھی ملاحظہ فرمائیں. ہم اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی آپ کی سچی توبہ کرنے کیلیے مدد کرے، آپ کو برائیوں سے بچائے اور برائیاں آپ سے دور کر دے ، نیز آپ کو توبہ کرنے والوں میں شامل فرمائے. واللہ اعلم

ماہرہ اورایشوریا میں زیادہ خوبصورت کون؟ میڈیا میں نئی بحث چھڑ گئی

نامور پاکستانی اداکارہ ماہرہ خان ایک بار پھر لباس کی وجہ سے میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گئی ہیں لیکن اس بار ان کا موازنہ اداکارہ ایشوریا رائے سے کیا جارہا ہے۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق گزشتہ برس ماہرہ خان مختصر لباس کی وجہ سے طویل عرصے تک بھارت اور پاکستانی میڈیا پر چھائی رہی تھیں جبکہ سوشل میڈیا پر ان کے لباس کو لے کر ماہرہ پر شدید تنقید کی گئی تھی ۔ اب ایک بار پھر ماہرہ خان اپنے لباس کی وجہ سے میڈیا کی توجہ کا مرکزبن گئی ہیں ۔تاہم اس بار ان کا موازنہ بھارتی ملکہ حسن اور نامور اداکارہ ایشوریا رائے کے لباس سے کیاجارہا ہے۔ماہرہ خان نے حال ہی میں ایک فوٹوشوٹ کرایا ہے جس میں وہ لال اور کالی دھاریوں والے لباس میں بہت خوبصورت نظر آرہی ہیں۔ ماہرہ نے اپنے فوٹوشوٹ کی تصاویر انسٹاگرام اکاؤنٹ پر بھی شیئر کی ہیں۔

دوسری جانب بھارتی حسینہ ایشوریا رائے بچن نے بھی بھارتی میگزین فیمینا کے لیے فوٹوشوٹ کرایا ہے۔تاہم حیرت انگیز بات یہ ہے کہ دونوں اداکاراؤں نے فوٹوشوٹ میں ایک جیسا لباس زیب تن کیا ہوا ہے۔ دونوں اداکاراؤں کا لباس ایک جیسا ہونے کی وجہ سے بھارتی میڈیا میں نئی بحث چھڑ گئی ہے کہ ماہرہ اور ایشوریا میں سے زیادہ خوبصورت کون سی اداکارہ لگ رہی ہے؟

ناشتے سے پہلے یہ چیز منہ میں رکھو پھر کمال دیکھو

بعض اوقات ہمیں وزن کم کرنے کا آسان اور کم مدت فارمولہ چاہیے ہوتا ہے جو آسان بھی ہو کیوں کہ آپ جلد ہی کسی ایسے موقع میں شرکت کرنے والے ہوتے ہیں جہاں آپ سلم اور سمارٹ دکھائی دینا چاہتے ہیں۔ حسب ذیل غذا ان لوگوں کے لئے تیار کی گئی ہے جو کم وقت میں وزن کم کرنا چاہتے ہیں اور یہ غذا ڈاکٹروں کی تجویز کردہ بھی ہے۔ اس کو استعمال کرکے آپ اپنے آپریشن سے پہلے ایک ہفتہ میں وزن گھٹا سکتے ہیں۔ یہ ایک کیمیکل غذا ہے جس کا مطلب ہے کہ اس میں ایسی اجزاءشامل ہیں جو وزن کم کرنے میں معاون ہیں اور ایک دوسرے مل کر رد عمل پیدا کرتے ہیں۔ اگر آپ اس پر عمل پیرا ہوں تو ایک ہفتے میں 7کلو وزن کم کرسکتے ہیں اور زیادہ کھانے پر وزن بڑھے گا بھی نہیں اور اگر آپ اپنے صحت کی مکمل اور ہالنگ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں یہ غذا آپ کو ایک اچھا آغاز دے سکتی ہے۔ جب پچھلے ہمارے ایک دوست نے ہمیں یہ ڈائیٹ دی تو ہم نے اس کا تجربہ کرکے دیکھا یہ کام کرتی ہے۔ لیکن انتباہ ایک لفظ جو بظاہر مشکل اور انڈوں پر بہت پاگل پن دکھائی دے گا لیکن اگر آپ نے اسے جاری رکھا تو یہ فوری نتائج حاصل کرنے کا موجب ہوگا۔

وزن کم کرنے کے اصول حسب ذیل ہیں۔

اگرآپ اس غذا کو ایک ہفتہ استعمال کرتے ہیں تو دوبارہ شروع کرنے سے پہلے کم از کم دو ہفتے کا وقفہ دیں۔
٭الکحل والے کسی مشروب کی اجازت نہیں۔

٭غذا میں لکھی ہوئی چیزوں کے علاوہ سب کچھ منع ہے۔

٭کوئی متبادل غذا نہیں۔

٭مکھن دودھ اور چربی کا استعمال ممنوع ہے۔

٭جو کچھ بتایا جائے وہی کھائیں۔

٭مشروبات میں چائے، کافی لیمن ٹی، انگور کا رس ٹانک واٹر اور سوڈا کے علاوہ عام پانی جو آپ کی بھوک کو کم کرے گا کے علاوہ کچھ نہ پیا جائے۔

٭سلا د میں صر ف ٹماٹر،سلاد کے پتے کھیرا اور اجوائن کے علاوہ کچھ نہ کھایا جائے۔

٭چینی کی ہر قسم سے مکمل پرہیز۔

اگر آپ تیار ہیں تو سات روزہ ڈائٹ پلان حاضر خدمت اللہ آپ کی مدد کرے۔پہلا دن:

 

ناشتے میں صبح ایک سوکھے ڈبل روٹی کا پیس بھنے ہوئے ٹماٹر کے ساتھ۔دوپہر کے کھانے میں تازہ پھلوں کا سالاد جو پھل آپ کو پسند ہوئے لیجیے۔ جتنا جی چاہے کھائیں لیکن ایک ہی نشست میں مت کھائیں۔
رات کے کھانے میں دو ابلے ہوئے سخت انڈے سالاد اور چکوترہ۔ یاد رہے کہ یہ پہلا دن انتہائی شکل ہوگا لیکن آگے چل کر آسانی ہوگی۔

دوسرا دن:
ناشتے میں چکوترہ اور ایک ابلا انڈہ دوپہر کے کھانے میں بھنا ہوا مرغی کا گوشت حسب منشا سلاد کے ساتھ۔ رات کے کھانے میں بھنا ہوا گوشت کا ٹکڑا اور سالاد۔ اب آپ کل سے بہتر محسوس کریں۔

تیسرا دن:
ناشتے میں چکوترا اورایک ابلا انڈا جبکہ دوپہر کے کھانے میں دو ابلے انڈے اور ٹماٹر رات کے کھانے میں بھیڑ کے گوشت بھنے ہوئے تتلے۔ اجوائن اور کھیرا۔
چوتھا دن:
ناشتے میں ایک سلائس اور 2انڈے دوپہر کے کھانے میں تازہ پھلوں کا سلاد کوئی پھل جس قدر بھی آپ سے کھایا جائے کھائیں۔ رات کے کھانے میں ٹھوس ابلے انڈے دو عدد سلاد اور چکوترے کے ساتھ۔

پانچواں دن:
ایک سوکھا سلائس اور دو ابلے ہوئے انڈے۔ دوپہر کے کھانے میں دو ابلے ہوئے انڈے ٹماٹروں کے ہمراہ کھائیں جبکہ رات کے کھانے میں تازہ یا ٹین پیک مچھلی سلاد کے ہمراہ لیں۔

چھٹا دن:
ایک ابلا انڈا ناشتے میں کھا کر ایک گلاس چکوترے کا جوس نوش فرمائیں۔ جبکہ دوپہر کے کھانے میں تازہ پھلوں کا سلاد حسب منشا اور رات کو روسٹ چکن گوبھی کے پتے اور گاجریں۔

ساتواں دن:
ناشتے میں دو انڈے اور بھنے ہوئے ٹماٹر جبکہ دوپہر کے کھانے میں دو ابلے انڈے اور پالک۔ رات کے کھانے میں بھنے ہوئے گوشت کے قتلے اور سلاد۔

دو آدمیوں کی آپس میں بحث چھڑ گئی کہ نماز میں دو سجدے

محفل میں دوران تقریب کچھ باتیں ہوئی ںایک صاحب کہنے لگے، آپ نے اتنی باتیں کرلیں ذرا یہ تو بتایئے کہ نماز میں دو سجدے کیوں ہیں؟میں نے کہا : مجھے نہیں معلوم۔کہنے لگے: یہ نہیں معلوم تو پھر آپ کو معلوم ہی کیا ہے؟ اتنی دیر سے آپ کی باتیں سن کر محسوس ہورہا تھا کہ آپ علمی آدمی ہیں لیکن آپ تو صفر نکلے۔۔

میں نے کہا: جناب! میں صفر نکلا نہیں، میں صفر ہوں! میں نے کبھی دعویٰ نہیں کیا کہ مجھے بہت کچھ آتا ہے۔کہنے لگے: اب سنیئے کہ نماز میں دو سجدے کیوں ہیں! ایک سجدہ اسلیئے کہ جب اللہ نے تمام فرشتوں کو حکم دیا تھا کہ حضرت آدم کو سجدہ کریں تو تمام فرشتے سجدے میں چلے گئے تھے۔ جب فرشتے سجدے سے اٹھے اور دیکھا کہ سجدہ نہ کرنے پر شیطان کو تا قیامت وعید ہوئی تو انہوں نے ایک اور سجدہ شکرانہ ادا کیا کہ ہم حکم عدولی والوں میں نہ تھے۔۔

میں نے کہا: بہت شکریہ جناب! آپ نے میری معلومات میں اضافہ کیا، میں اس کی تحقیق میں نہیں جاؤنگا کہ آیا یہ بات حسب واقعہ ہے بھی یا نہیں، لیکن ایک سوال میری طرف سے بھی۔ اگر کسی شخص سے نماز میں ایک سجدہ چھوٹ جائے تو کیا اس کی نماز ہوجائے گی؟کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم۔میں نے پوچھا: جناب! کیا ہمیں پہلے وہ معلومات حاصل نہ کرنی چاہیئیں جن سے زندگی میں اکثر و بیشتر پالا پڑتا ہو یا پڑنے کی امید ہو۔؟۔۔

اس پر وہ بحث کرنے لگے۔بہرحال ان صاحب نے تو وہ بات نہ مانی لیکن میں یہ سمجھ چکا تھا کہ لوگوں کے دماغ میں “علمیت” کا معیار کیا ہے؟یقین کیجئے میں نے مسجدوں کی دیواروں ہر قران و حدیث کی بجائے کفر و گستاخی کے فتوے آویزاں دیکھے۔میں نے کارپینٹر اور مستری کے درمیان “علم غیب” کے مسئلے پر بحث ہوتے دیکھی ہے۔میں نے اپنی آنکھوں سے ایسے لوگوں کو مسلکی ویڈیوز شیئر کرتے دیکھا ہے جن کو غسل کے فرائض تک نہیں معلوم۔حدیث میں آتا ہے:

“اختلاف العلماء رحمۃ”علماء کا اختلاف رحمت ہے۔مجھے لگتا ہے یہ حدیث مجھے اپنے اندر چھپے ایک اور معانی بتا رہی ہے اور وہ ہے:
“اختلاف الجہلاء زحمۃ”جاہلوں کا اختلاف زحمت ہے۔بھائیو دوستو بزرگو کیونکہ علم والے جب اختلاف کرتے ہیں تو غور و فکر کے دروازے کھلتے ہیں اور دلائل کے انبار لگتے ہیںجبکہ جاہل جب اختلاف کرتے ہیں تو بحث و تکرار کے در وا ہوتے ہیں اور گالیوں کے ڈھیر لگتے ہیں

گھر میں صرف یہ ایک چیز رکھ لیں پھر کمال دیکھیں اس عمل کی برکت مٹی میں ہاتھ ڈالو ،تو سونا بن جائے غربت اور تنگدستی ہمیشہ کے لئے بھاگ جائے گی

دنیا میں عمومی طورپر انسان مالی پریشانیوں میں جکڑا رہتاہے لیکن کا حل بھی قرآن مجید میں موجود ہے ، سورۃ رحمان کی تلاوت کرنے سے نہ صرف آپ کے رزق میں کشادگی ہوتی ہے بلکہ قرضوں سے بھی نجات مل سکتی ہے ،۔۔جاری ہے۔

اسی طرح اور کیا کچھ فواہدہیں ،وہ کچھ یوں ہیں۔فراخئی رزق کیلئے:ثواب کے علاوہ رزق کی فراخی کے لئے ہر روز نماز عشاء کے بعد تین بار سورۃ رحمان پڑھے۔ اول و آخر گیارہ گیارہ مرتبہ درود پاک پڑھے۔ہر روز عشاء4 کی نماز کے بعد یہ وظیفہ بلا ناغہ پڑھنے کا معمول بنالیا جائےتو رب تعالیٰ کے فضل و کرم سے کبھی رزق میں کمی واقع نہ ہوگی۔غربت و افلاس سے چھٹکارا:عربت، تنگدستی اور افلاس دور کرنے کے لئے ہر جمعہ کو نماز عشاء پڑھ کر مصلحے پر بیٹھے اور اول و آخر گیارہ بار درود پاک پڑھے۔ درمیان میں دس مرتبہ سورہ رحمن پڑھے۔۔جاری ہے۔

۔پھر رب تعالیٰ سے دعا مانگے اور کسی سے بات چیت نہ کرے۔ حق تعالیٰ نے چاہا تو چند ہی دنوں میں اس پر خدا کا بے انتہا انعام و اکرام ہوجائے گا۔دکان میں ترقی کیلئے:باوضو حالت میں سات مرتبہ سورہ رحمن شریف پڑھ کر اپنی دکان کے مال پر دم کریں۔اللہ تعالیٰ نے چاہا تو دکان خوب چلے گی اور گاہک وافر مقدارمیں دکان میں آئیں گے۔قرض سے نجات:جس کسی پر بہت زیادہ قرض واجب الادا ہو اور وہ قرض ادا کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ ہر نماز کے بعد اول گیارہ مرتبہ درود پاک پڑھے، پھر 11 بار سورہ رحمان پڑھے۔پڑھنے کے بعد پھر گیارہ مرتبہ درود پاک پڑھے۔ حق تعالیٰ نے چاہا تو غیب سے قرض کی ادائیگی کا سامان پیدا ہوجائے گا۔۔جاری ہے۔

اور پریشانی جاتی رہے گی۔دکان میں خیر و برکت کیلئے:دکان میں خیر و برکت کے حصول کے لئے ہر روز دکان کھولنے کے بعد باوضو حالت میں اول گیارہ مرتبہ درود پاک پڑھیں، پھر دوبار سورہ رحمن کا ورد کرے، اس کے بعد پھر گیارہ مرتبہ درود پاک پڑھے اور دکان کے چاروں کونوں میں پھونک مارے۔انشاء اللہ تعالیٰ دکان میں خیر و برکت پیدا ہوجائے گی۔غربت و افلاس ختم ہوجائے:غربت و افلاس کے خاتمہ کے لئے سورہ رحمن کا پڑھنا انتہائی فائدہ مند ہے، جو شخص غربت و افلاس کا شکار ہو، اسے چاہیے کہ وہ ہر روز فجر کی نماز کے بعد ایک مرتبہ سورہ رحمن پڑھے۔ پردہ غیب سے ایسا سامان پیدا ہوگا کہ اس کی مالی پریشانی، خوشحالی میں بدل جائے گی۔۔۔جاری ہے۔

گھر کے حالات ٹھیک ہوجائیں گے۔ مال و دولت کی ریل پیل ہوجائے گی، لیکن اس مقصد کے لئے بلاناغہ سورہ رحمن کا ورد کرنا ہی مطلوبہ مقصد کو پورا کرتا ہے

حاملہ خاتون کے ہاں مردہ بچے کی پیدائش ، اس کے بعد 15 دن تک بچے کی لاش کے ساتھ کیا کرتی رہی؟ جان کر آپ اپنے آنسوﺅں پر قابو نہ رکھ پائیں گے

برطانیہ میں ایک خاتون کے ہاں مردہ بچے کی پیدائش ہوئی لیکن وہ 15دن تک اپنے بچے کی لاش کے ساتھ کچھ ایسا کرتی رہی کہ جو بھی سنتا ہے اس کی آنکھیں بھر آتی ہیں۔برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق32سالہ لنزے بیل کو جب زچگی کے لیے ہسپتال لایا گیا تو اس کی حالت بہت تشویشناک تھی۔

ٹیسٹ کے بعد ڈاکٹروں نے اسے اتنا بتایا کہ اس کے ہاں مردہ بچے کی ولادت ہو گی اور پھر فوراً اسے آپریشن تھیٹر میں لے گئے۔ بچے کی پیدائش انتہائی پیچیدگی سے ہوئی جس کے باعث لنزے کا بہت سا خون بہہ گیا اور وہ بے ہوش ہو گئی اور اسے دو دن بعد ہوش آیا۔

ہوش میں آنے پر نرسیں اس کے مردہ بیٹے کو اس کے سامنے لائیں جسے اس نے بانہوں میں تھام لیا اور اسے پیار کرنے لگی۔

رپورٹ کے مطابق لنزے اور اس کے شوہر مارک نے کچھ دن اپنے بچے کے ساتھ گزارنے کی خواہش کا اظہار کیا جس پر ڈاکٹروں نے بچے کی لاش سردخانے میں رکھوا دی تاکہ دونوں میاں بیوی زیادہ سے زیادہ وقت اپنے بچے کے ساتھ گزار سکیں۔

دونوں دن میں کئی بار اپنے بچے کے پاس جاتے اور جتنی دیر ممکن ہوتا وہیں رہتے۔ لنزے اپنے بیٹے کو نہلاتی، اس کے کپڑے تبدیل کرتی۔ اس کو کہانیاں سناتی اور کسی جیتے جاگتے بچے کی طرح اس کا دل بہلانے کی کوشش کرتی۔15روز تک دونوں میاں بیوی نے یونہی اپنے بیٹے کے ساتھ وقت گزار اور پھر اس کی تدفین کر دی گئی۔

لنزے بیل کا کہنا تھا کہ ”وہ میرا بیٹا تھا، مجھے اس کی ضروریات کا خیال رکھنا تھا۔ مجھے اس کو خوش رکھنے اور اسے جاننے کی ضرورت تھی جو میں نے ان 15دنوں میں کیا۔ میں نے اس کی چہرے، سرکے پچھلے حصے اور ننھے ہاتھوں کی تصاویر بنائیں۔میں اس کے نیپی تبدیل کرتی اور اسے اپنی بانہوں میں جھلاتی تھی۔ اس کے بعد ہم پہلی اور آخری بار اسے گھر لائے اور پھر اس کی آخری رسومات ادا کر دی گئیں۔ “